راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کی حدود میں غیرت کے نام پر 17 سالہ لڑکی سدرہ بی بی کے قتل کیس میں عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے مسلم لیگی رہنما اور جرگہ سربراہ سیف الرحمان خان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ سیف الرحمان پر قتل کا فتویٰ دینے کا الزام ثابت ہوتا ہے، جو ایک غیر قانونی، غیر آئینی اور سنگین جرم ہے۔اسی کیس میں عدالت نے سیکریٹری قبرستان راشد محمود کی ضمانت بھی مسترد کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ راشد محمود نے تدفین کے ریکارڈ میں جعلسازی (ٹمپرنگ) کی، جس سے جرم کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ دونوں ملزمان کو بادی النظر میں قتل کے براہ راست ذمے دار قرار دیا گیا۔یہ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فرحت جبین نے سنایا۔ پولیس کے مطابق، 21 جولائی کو تھانہ پیرودھائی میں مقدمہ درج ہوا تھا اور مقتولہ کی لاش برآمد کی گئی تھی۔ تحقیقات کے بعد پولیس نے تمام ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کر دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر تمام ملزمان کو اڈیالہ جیل سے طلب کیا جائے تاکہ ان پر فردِ جرم عائد کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، مقتولہ سدرہ بی بی کو مبینہ طور پر جرگے کے فیصلے پر قتل کیا گیا تھا، اور سیف الرحمان پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کے مبینہ "غیرت کے خلاف عمل" پر قتل کا فتویٰ صادر کیا تھا، جس کے بعد اسے گولی مار کر قتل کیا گیا۔ پولیس نے اس کیس کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ قرار دیتے ہوئے تمام کرداروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔