تھانہ پیر ودھائی کے علاقے میں غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی 17 سالہ سدرہ بی بی کے مقدمے میں پولیس نے مکمل چالان عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔
چالان کو ٹرائل کے لیے ماڈل کورٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔تفتیشی ٹیم کے مطابق مقتولہ کے والد، والدہ، بہنیں، بھائی، پہلا شوہر، سسر اور چچا سمیت متعدد قریبی رشتے داروں کو مقدمے میں حقیقی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قتل کا فتویٰ دینے والے مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنما عصمت اللّہ خان کو بھی مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔چالان میں گورکن اور وہ ڈرائیور بھی نامزد ہیں جس نے شدید بارش کے دوران مقتولہ کی لاش کو لوڈر رکشہ پر قبرستان پہنچایا۔پولیس رپورٹ کے مطابق مقدمے میں نامزد 9 ملزمان کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ 18 ملزمان مفرور ہیں اور انہیں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ آئندہ ہفتے ماڈل کورٹ میں تمام ملزمان کو جیل سے طلب کر کے چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی۔
میڈیکل بورڈ اور فرانزک رپورٹ میں سدرہ بی بی کی موت گلا دبانے سے ثابت ہوئی ہے جبکہ گلا دبانے والا تکیہ اور لاش لے جانے والا لوڈر رکشہ مالِ مقدمہ کے طور پر عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام ملزمان نے باہمی مشاورت اور جرگہ نما میٹنگ میں متفقہ طور پر قتل کا فیصلہ کیا اور اس پر عملدرآمد کیا۔ پولیس نے عدالت سے سفارش کی ہے کہ تمام ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی جائے۔