وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس، اہم فیصلوں کی توقع

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس، اہم فیصلوں کی توقع

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس 3 بج کر 30 منٹ پر ہوگا جس میں 13 نکاتی ایجنڈے پر تفصیل سے غور کیا جائے گا۔

 کابینہ اجلاس میں زیر بحث آنے والے اہم نکات میں ای-آفس پر عمل درآمد، عالمی آبی معاہدوں کی توثیق، اور مختلف اداروں کی اہم تقرریاں شامل ہیں۔

اجلاس میں زیر غور نکات:

ای-آفس پر عملدرآمد: کابینہ وزارتوں اور محکموں میں ای-آفس کے نفاذ پر بریفنگ لے گی۔ یہ اقدام حکومتی اداروں میں دفتری کاموں کو ڈیجیٹل بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
عالمی آبی معاہدے: کابینہ عالمی معاہدے کی توثیق کرے گی جس میں قومی سرحدوں سے ماورا آبی ماحول کے تحفظ اور اس کے استعمال پر بات کی جائے گی۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن: کابینہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی کی منظوری دے گی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ میں ترمیم: وفاقی کابینہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے گی جس سے بینک کی کارکردگی اور اقتصادی پالیسیوں کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
ریاستی ملکیتی ادارہ جات ایکٹ 2023 میں ترمیم: اس ترمیم کے ذریعے حکومتی ملکیتی اداروں کے انتظام اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق: کابینہ دارالحکومت سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق میں رکن کی تعیناتی کی منظوری دے گی۔
آئی ٹی یو اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے درمیان ایم او یو: کابینہ دونوں اداروں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی منظوری دے گی تاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھایا جا سکے۔
گِلگت بلتستان کی سیکیورٹی اور واجبات: کابینہ ملٹری انٹیلیجنس کی جانب سے گکگت بلتستان کی سیکیورٹی کے لیے واجبات کی منظوری دے گی اور متعلقہ ڈیوٹی الاؤنسز کی ادائیگی کی منظوری بھی دی جائے گی۔
انسداد بدعنوانی کنونشن کی رپورٹ: کابینہ اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت کنٹری رپورٹ کی منظوری دے گی۔
کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی: کابینہ کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کے ایم ڈی کی تعیناتی کی منظوری دے گی تاکہ اس ادارے کی کارکردگی اور انتظام میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
میڈیکل کالج راولپنڈی: میڈیکل کالج راولپنڈی کی سیکشن 21 کے تحت درخواست کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے سپرد کرنے کی منظوری دی جائے گی۔
اس اجلاس میں کابینہ کی جانب سے ان تمام نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ان کی منظوری دی جائے گی تاکہ حکومتی امور اور اصلاحات میں پیش رفت کی جا سکے۔