سموگ: 30ہزار لاہورئیے بیمار
ایئر کوالٹی انڈیکس 1194 تک پہنچ گیا ، اگلا پورا ہفتہ لاہور میں بدترین سموگ رہے گی، دودن اہم ،صورتحال کو دیکھ کر مزید فیصلے کرینگے :مریم اورنگزیب،میوہسپتال میں سب سے زیادہ 6ہزارمریض ، ہزاروں افراد نے نجی ہسپتالوں کا رخ کرلیا
لاہور( کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک )سموگ سے 30ہزار لاہورئیے بیمار ہو گئے ،لاہور میں پرائمری سکول ایک ہفتے کیلئے بند،جمعہ اورہفتہ کو بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ، ایئر کوالٹی انڈیکس 1194 تک پہنچ گیا ، اگلا پورا ہفتہ لاہور میں بدترین سموگ رہے گی میوہسپتال میں سب سے زیادہ 6ہزارمریض ، ہزاروں افراد نے نجی ہسپتالوں کا رخ کرلیا ، لاہورشہر میں سموگ کی شدت برقرار ہے ،شہری انفلوئنزا اور وائرل انفیکشن سے شدید متاثر ہو رہے ہیں ،ہسپتالوں میں خشک کھانسی اور سانس میں دشواری کے مریضوں میں اضافہ جاری ہے ،بچے نمونیہ، چیسٹ انفیکشن اور خشک کھانسی کا شکار ہورہے ہیں ،آنکھوں میں جلن اور جلدی امراض میں بھی بڑھنے لگے ، عارضہ قلب اور دمہ کے مریض بھی شدید متاثر ہیں ،گزشتہ 7 روز میں شہر کے 5 بڑے سرکاری ہسپتالوں سمیت چھوٹے بڑے ہسپتالوں سمیت سموگ سے متاثرہ 30 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ میو ہسپتال میں سب سیزیاد 6 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے، جناح ہسپتال میں 5 ہزار،گنگارام ہسپتال میں 4 ہزارسے زائد جبکہ سروسزہسپتال اور جنرل ہسپتال میں تین تین ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے جبکہ 10ہزار کے قریب افراد نے نجی ہسپتالوں سے ادویات لیں ۔حکومت پنجاب نے سموگ کی ابتر صورتحال کے باعث لاہور میں ایک ہفتے کیلئے پرائمری سکول بند کرنے کا اعلان کردیا جبکہ لاہور میں 8نومبر سے 31جنوری 2025تک جمعہ اور ہفتہ کے روز بھاری گاڑیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔۔مریم اورنگزیب نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے اور دھویں سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا، امرتسر اور چندی گڑھ سے ہوا پاکستان آئی تو اس میں سموگ بہت تیز تھی، بھارت سے سموگ آئی اور ایک دم پھیل گئی اور بھارت کی طرف سے چلنے والی ہواوٓں سے سب سے زیادہ لاہور متاثر ہوا اورصورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ،سموگ کے خاتمے کے لئے بارڈر کے دونوں اطراف اقدامات کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ نے 8 ماہ سموگ پر کام کیا ،جس کے نتیجہ میں 550 سے زائد بھٹوں ،آلودگی کا باعث بننے والی فیکٹریوں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو بند کیا گیا۔ ہر قسم کے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی لگائی گئی،کھیتوں میں آ گ لگانے والے متعددکسانوں کو گرفتار کر کے جرمانے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگلا پورا ہفتہ لاہور میں بدترین سموگ رہے گی، پنجاب حکومت نے ایک ہفتہ کیلئے مونٹیسوری پلے گروپ سے پرائمری سکول تک تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی ادارے بند کر نے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سکولز ،کالجزکے اساتذہ، طلبہ، بزرگ اوربچے ماسک ضرور لگائیں، دروازوں اور کھڑکیوں کو بند رکھیں، سموگ کے پیش نظر 50 فیصدعملے کے گھر سے کام کرنے کی پالیسی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ سموگ کی کورونا سے زیادہ خطرناک صورتحال ہے، اگلے دو دن انتہائی اہم ہیں صورت حال کو دیکھ کر مزید فیصلے کریں گے ، اگر حالات نہ بدلے تو لاک ڈاوٓن بھی لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاوٓسنگ سوسائٹیز میں تعمیرات ایس او پیز کے تحت چلائیں گے ،اس پر پابندی نہیں لگا رہے،مختلف محکموں نے اپنی مصنوعی بارش کی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے، جیسے ہی موقع ملا تو مصنوعی بارش کریں گے۔ اتوار کو ایئر کوالٹی انڈیکس میں لاہور دنیا میں آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا ،ایئر کوالٹی انڈیکس 1194 تک پہنچ گیا جبکہ بھارتی دارالحکومت دہلی 450 کے ساتھ دوسرے اور کولکتہ 201 اے کیو آئی کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھارت سے پاکستان میں داخل ہونیوالی ہواوٓں کا اگلے 7روزتک رخ دکھانے والا نقشہ جاری کر دیا جبکہ بھارت سے چلنے والی ہوائوں کی رفتار ڈھائی سے 7 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ تحفظ ماحولیات کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 8نومبر سے 31جنوری 2005تک جمعہ اور ہفتہ کی رات بھاری گاڑیاں لاہور میں داخل نہیں ہوسکیں گی، تاہم ایندھن، ادویات، ہسپتال اور کھانے کی اشیا کی سپلائی کرنیوالی ہیوی ٹرانسپورٹ کو پابندی سے استثنیٰ ہوگا۔اسی طرح وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹ کی حامل مسافربسوں، ایمبولینس، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 کی گاڑیوں، پولیس اور جیل کی گاڑیوں پر بھی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ خلاف ورزی پر 188 پی پی سی سمیت دیگر قوانین کے تحت سزا دی جائے گی ۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے لاہور کے پرائمری سکولوں میں آج سے ایک ہفتے تک چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔سی ای او ایجوکیشن لاہور نذیر حسین کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنرز اپنی متعلقہ تحصیلوں میں دورے کریں گے اورخلاف ورزی کر نیوالا ادارہ سیل کر دیا جائے گا۔تحصیل اور مرکز کی سطح پر 3 ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز ، 12 ڈپٹی ڈی ای اوز اور 50 اے ای اوز پر مشتمل ٹیمیں بھی سکول بند کرانے کے نوٹیفکیشن پر عمل کرائیں گی۔