احتجاج رکوانے کیلئے حکومت ، پی ٹی آئی میں بیک ڈور رابطے
حکومت نے مثبت پیش رفت کے لئے تحریک انصاف کی قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کروانے کی پیشکش کردی ،عوام کو اصل حالات سے آگاہ نہیں کیا جا رہا، شہباز شریف کو اسمبلی میں تقریر کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ ہم اپنے چرائے گئے مینڈیٹ پر بات کریں گے :اپوزیشن لیڈر عمر ایوب
راولپنڈی(خصوصی رپورٹ) ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 فروری کا احتجاج رکوانے کے لیے حکومت کے پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سے بیک ڈور رابطوں کا انکشاف ہوا ہے، حکومت نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی بحالی کے ضمن میں پیشگی کے طورپراہم پیشکش بھی کردی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے مثبت پیش رفت کے لئے تحریک انصاف کی قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کروانے کی پیشکش کی ہیجبکہ پی ٹی آئی رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، ملک کس طرف جا رہا ہے، حکومت نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو یوم سیاہ منائیں گے، صوابی میں احتجاج ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے ہاتھ میں تو یہ بھی نہیں کہ ہماری اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کھلے ماحول میں بات کروا سکیں، عوام کو اصل حالات سے آگاہ نہیں کیا جا رہا، یہ لوگ عیاشیاں کر رہے ہیں، ایف بی آر 1010 نئی گاڑیاں لے رہا ہے، شہباز شریف کو اسمبلی میں تقریر کرنے کی ہمت نہیں ہے۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے، یہ سب ڈرپوک لوگ ہیں ہم اپنے چرائے گئے مینڈیٹ پر بات کریں گے، پورے ملک کے دلوں کی دھڑکن بانی پی ٹی آئی ہے۔تحریک انصاف نے آٹھ فروری کو لاہور میں جلسہ کی اجازت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔چیف آرگنائزر تحریک انصاف عالیہ حمزہ نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں پنجاب حکومت ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے اور موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے آٹھ فروری کو لاہور میں جلسہ کرنا ہے جس کے لیے انتظامیہ کو درخواست بھی دی گئی لیکن جلسے کی اجازت نہیں دی گئی ہے لہذا عدالت درخواست منظور کرے اور لاہور میں جلسے کی اجازت دی جائے۔