فیلڈ مارشل ساری رات جاگتے رہے‘اعلی سفارتی رابطے ایران نے جنگ بندی کیلئے پاکستانی تجاویز مسترد کردیں آج کی ڈیڈ لائن حتمی ‘ایران کو تباہ و برباد کر دینگے ٹرمپ

ممکنہ معاہدے کو اسلام آباد اکارڈ کا نام دیاگیا جس کا مسودہ دونوں ممالک کو بھیجا گیا‘ پاکستان کی جانب سے45دن کے لئے جنگ بندی کی تجویز دی گئی‘جنگ بندی کافی نہیں ‘ یہ ضمانت بھی چاہیے مستقبل میں جنگ دوبارہ نہ ہو:ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ایران کو ایک رات میں تباہ و برباد کر دیں گے شاید وہ رات آج ہو‘ہماری دی گئی تجاویز بہت اہم ہیں‘  ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے‘ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس
واشنگٹن،  تہران(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )ایران نے ایک بار پھر پاکستان اقدامات کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز وصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔برطانوی خبر رساںادارے رائٹرز کے مطابق سینئر ایرانی عہدیدار نے اس بات کی بھی تصدیق کی  ہے ایران کو پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے اور جنگ بندی پیشکش کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔سینئر ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتا، تہران عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا تہران دبائو میں آکر کسی ڈیڈ لائن کو قبول کرنے اور فوری فیصلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جس پر دونوں ممالک غورکررہے ہیں ۔ پاکستان کا پیش کردہ فریم ورک دو مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل معاہدہ ہو گا۔اس منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوری نفاذ کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، پاکستان اس عمل میں واحد رابطہ چینل کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، عسکری قیادت نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ممکنہ معاہدے کو اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا جا رہا ہے، معاہدے کے تحت 45 روزہ جنگ بندی بھی زیر غور ہے۔  اس فریم ورک میں ابتدائی طور پر فوری سیزفائر کی تجویز شامل ہے، جس کے بعد 15 سے 20 دن کے اندر ایک مستقل معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ا منصوبے کو عارضی طور پر اسلام آباد معاہدہ کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رات بھر اعلی سطحی سفارتی رابطے کیے، جن میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔عالمی خبر رساں ادارے نے مزید کہا ہے کہ منصوبے کے مطابق ابتدائی سمجھوتہ ایک مفاہمتی یادداشت(ایم او یو)  کی صورت میں طے کیا جا سکتا ہے، جبکہ حتمی مذاکرات اسلام آباد میں براہ راست ملاقاتوں کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے‘عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں جنگ بندی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا  کوئی بھی عقلمند شخص ایسی صورتحال کو قبول نہیں کرے گا۔ جنگ بندی دراصل صرف ایک وقفہ ہوتا ہے جس سے مخالف فریق کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایران کا اصل مطالبہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہے نہ کہ وقتی توقف کرنا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ یہ ضمانت بھی چاہیئے کہ مستقبل میں جنگ دوبارہ نہ ہو اور یہ ضمانتیں کسی بین الاقوامی ادارے سے نہیں بلکہ طاقت اور جوابی حملوں کے ذریعے حاصل ہوں گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے  منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہائوس میں ایسٹر ایگ رول کی سالانہ تقریب ہوئی، جس کی سربراہی صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے کی۔تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا ہمارا آپریشن رجیم چینج کا تھا، منگل کی ڈیڈلائن حتمی ہے، ہماری دی گئی تجاویز بہت اہم ہیں۔انہوں نے کہا جنگ فوری ختم ہوسکتی ہے اگر ایران وہ کرے جو اسے کرنا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا  ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، اگر میرے پاس انتخاب ہوتا تو ایسا کرلیتا، ویسے بھی تہران کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں۔بعد ازاں پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہاہم ایران کو ایک رات میں تباہ و برباد کردیں گے شاید وہ رات آج ہو‘انہوں نے کہا ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیں