مزدوروں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان!

 رفیع احمد 

   کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی میں محنت کش یعنی مزدوروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک چین ، جاپان ، کوریا ،   ملایشیا ، سعودی عرب اور دیگر ترقی وکامرانی حاصل کرنے والے ممالک  مزدوروں کے مرہون منت ہیں۔ پاکستان جب آزاد ہوا تو اس کی صنعتی و زرعی پیداوار قابل ذکر نہیں تھی، آج جو شان دار شاہراہیں، ڈیم، عمارتیں اور پل وغیرہ ہمارے محنت کشوں کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ سخت سے سخت موسم وحالات میں ہمارا مزدور پانی، سوئی گیس اور بجلی کے تار بچھاتے ہوئے نظر آتا ہے۔ ہمارا ہنر مند اپنے کام اور ذہانت کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں اپنا مقام اعلیٰ رکھتا ہے۔ہمارے مزدور کے ذہن میں یہ حدیث مبارکہ موجود رہتی ہے کہ " محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے"۔ 
       ہمارے دشمن نے ہمیں کمزور سے کمزور کرنے کرنے کی ہر ہر سازش کی ہے، دشمن نے ہماری اساسیت یعنی مزدوروں میں منشیات کا پھیلاؤ منظم طریقے سے پھیلا دیا ہے۔ مزدوروں میں منشیات کا تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ ذہنی دباؤ ،بے روزگاری، غربت ، کم معاوضہ ، عدم تحفظ، مہنگائی کی وجہ سے وہ چرس، شراب ، افیون ، ہیروئن اور کرسٹل آیس جیسے نشوں کا شکار ہو رہا ہے۔ منشیات فروش اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ہمارے مزدور کے پاس محنت کی کمائی موجود ہے تو وہ اس کے مسائل سے فایدہ اٹھاتے ہوئے پہلے پہل وہ اسے مفت میں منشیات کی سپلائی دیتا ہے اور بعد ازاں اس کی تمام محنت کی کمائی کے عوض اسے زندہ لاش بنادیتا ہے۔ اس طرح ہمارا قیمتی مزدور بالآخر سڑکوں پر بھیک مانگتے اور چوریاں کرتے نظر آتا ہے تاکہ وہ اپنا نشہ پورا کر سکے۔ راقم الحروف کا تجربہ  ہے کہ وطن عزیز میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں 90، فیصد مزدور ہوتے ہیں یعنی ایک کروڑ مزدور نشہ کر کے اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگی برباد کر رہے ہیں۔ 
       حکومت کو چاہیے کہ وہ منشیات کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کر ے، منشیات فروشوں کو مزدوروں کے قریب نہ جانے کے لیے   مزدوروں میں منشیات کے خلاف شعور و آگہی کے زیادہ سے زیادہ پروگرام کریں۔ مزدوروں کے حقیقی مسائل حل کریں، ان کے بچوں کو چھت اور تعلیم کا بندوست کرے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ " مزدور خوشحال تو ملک خوشحال"۔۔۔