بشریٰ بی بی سے عمران خان کی ملاقات، بہنیں بانی سے نہ مل سکیں
عمران کی 6 اور اہلیہ کی 1 ضمانت قبل از گرفتاری کے تحریری فیصلے جاری
اسلام آباد(بیورو رپورٹ )اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس کی مرکزی اپیل 10مارچ کوسماعت کے لیے مقرر کرنے اور علاج کیلئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب مانگ لیاہے۔عدالت نے عمران خان کے علاج کی متفرق درخواست کو نمبر لگانے کی ہدایت کرد ی ، میڈیکل ٹیم نے جیل میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا معائنہ کیا جبکہ عمران اوربشری ٰ بی بی کی ملاقات بھی کرادی گئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی پی ٹی آئی کی نجی ہسپتال میں علاج کی متفرق درخواست پر جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس خادم سومرو نے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ ، سلمان اکرم راجا و دیگر وکلا پیش ہوئے۔ عدالت کا استفسارکیا کہ آپ مرکزی اپیل پر دلائل کیوں نہیں دیتے ہیں؟ جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم تو تیار ہیں، آپ کل ہی ہماری اپیل لگا دیں۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس د یئے کہ ہم آپ کی اپیل اور درخواست دونوں سن لیتے ہیں، پیپر بک تیار ہونے میں دو تین دن لگ جائیں گے، ہسپتال منتقلی کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے، مرکزی اپیل آئندہ ہفتے مقررکررہے ہیں،تیاری کے ساتھ آیئے گا۔ادھراسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے عمران خان کی 6 اور اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر تحریری فیصلے جاری کر دیئے ،جس کے مطابق توشہ خانہ میں مبینہ جعلی رسیدوں کے مقدمے میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، استغاثہ کی جانب سے مئوقف اختیار کیا گیا کہ رسید سوشل میڈیا پر دیکھی گئی، تاہم آج تک اس رسید کا فرانزک معائنہ نہیں کرایا گیا۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے مبینہ جعلی رسیدیں الیکشن کمیشن یا کابینہ ڈویڑن میں جمع کرائیں۔اسی طرح اعلیٰ شخصیات کے خلاف الزام تراشی کے مقدمے میں بھی بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کی گئی، کیونکہ استغاثہ ان کی افواجِ پاکستان کے خلاف تقریر یا کسی قسم کا ثبوت عدالت میں پیش نہ کر سکا۔عدالت کے مطابق ایسا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ بانی پی ٹی آئی نے9مئی کو بغاوت پر اکسایا، دریں اثنا عمران کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ان کی بھابی اور بیٹی ملے جبکہ عمران خان سے بھی اہلیہ کی ملاقات کرادی گئی ۔حکام کے مطابق ملاقات کانفرنس روم میں کروائی گئی جبکہ بانی کی بہنوں کی ملاقات نہ ہو سکی جس پر علیمہ خان اور نورین نیازی اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئیں ۔ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہرمیڈیاسے گفتگومیں کہا کہ ہماری ترجیح ملاقات سے زیادہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ہے۔ ہم ملاقات کر کے بانی پی ٹی آئی کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن علاج ترجیح ہے۔ ہمیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔دوسری طرف پمز کے ترجمان کے مطابق اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کیا گیا ،جس کیلئے ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، جس میں الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز کے پروفیسر ڈاکٹر ایم عارف خان شامل تھے۔ میڈیکل بورڈ رپورٹ کے مطابق معائنہ عمران خان کی آنکھوں میں لگنے والے دوسرے انجکشن (anti-VEGF) کے بعد فالو اپ کے طور پر کیا گیا۔ ڈاکٹرزنے ان کی آنکھوں کے مختلف ٹیسٹ کیے ، عمران کی نظر میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس وقت ان کی بصارت کافی بہتر ہے۔ بورڈ نے مزید علاج اور دیکھ بھال کے لیے علاج پر عمل جاری رکھنے کی سفارش کی ہے۔علاو ہ ازیں سینئر قانون دان لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ بانی کا طبعی معائنہ جیسے ہوا اس پر ہمیں اعتماد نہیں ہے، پمز میں ماہر امراض چشم ہے ہی نہیں جبکہ شفا ہسپتال میں مکمل علاج ہو گا، بانی پی ٹی آئی کے ذاتی ڈاکٹرز سے طبعی معائنہ نہیں کرایا گیا، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ صحت سے متعلق دائر درخواست کو تین سال قبل کی اپیل کے ساتھ منسلک کر کے ایک ہفتہ آگے لے گئے ہیں، پورے خطے میں جنگ کی صورتحال ہے،اس ملک کو ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ٹرمپ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرے،افغانستان کے خلاف ہونے والے آپریشن سے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جائے۔