نابینا خاتون کی آنکھ میں دانت، بینائی بحال کا انوکھا آپریشن

اوٹاوا (نیٹ نیوز) کینیڈا میں ماہر سرجنز نے ایک انقلابی طبی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار ایک نابینا خاتون کی آنکھ میں اس کے اپنے دانت کا ٹکڑا لگا کر بینائی بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نایاب اور جدید سرجری وینکوور کے ماؤنٹ سینٹ جوزف ہسپتال میں پروویڈنس ہیلتھ کیئر کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر گریگ مولونی نے انجام دی۔ آپریشن گیل لین نامی خاتون پر کیا گیا، جو ایک دہائی سے نابینا تھیں۔یہ سرجری آنکھوں کے کئی ماہرین کے لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ اس میں مریض کے دانت کو نکال کر اسے ایک مصنوعی قرنیہ بنانے کے لیے آنکھ میں لگایا جاتا ہے۔ کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (سی بی سی) کے مطابق  یہ سرجری دنیا میں کئی بار کی جا چکی ہے لیکن کینیڈا میں پہلی مرتبہ انجام دی گئی ہے۔یہ جدید طریقہ کار دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں مریض کے دانت کو نکال کر اسے مستطیل شکل میں تراشا جاتا ہے، اس میں ایک سوراخ کرکے ایک چھوٹا پلاسٹک لینز داخل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس ترمیم شدہ دانت کو مریض کے گال میں تین ماہ کے لیے لگا دیا جاتا ہے تاکہ اس میں وہ ضروری بافتیں (ٹشوز) پیدا ہو سکیں جو اسے آنکھ میں لگانے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر مولونی نے وضاحت کی کہ یہ ابتدائی مرحلہ بہت اہم ہے، کیونکہ دانت میں وہ قدرتی بافتیں موجود نہیں ہوتیں جو اسے براہ راست آنکھ میں لگانے کے قابل بنا سکیں۔ اسی دوران مریض کی آنکھ کی سطح کی تہہ ہٹا کر اس پر گال سے لیے گئے ٹشو کا ایک پیوند لگا دیا جاتا ہے، جو مکمل طور پر مندمل ہونے کے بعد دانت کے ٹکڑے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ڈاکٹر مولونی نے مزید بتایا کہ یہ سرجری ہر نابینا فرد کے لیے موزوں نہیں بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو شدید قرنیہ کی خرابی اور آنکھ کی جھلی میں داغ یا زخموں کی وجہ سے بینائی کھو چکے ہوں۔ ایسے مریضوں کے ریٹینا اور آپٹک نروز صحت مند ہونے ضروری ہیں، تاکہ آپریشن کامیاب ہو سکے