احمدخان اچکزئی
محترم قارئین! آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی وہ حساس شہ رگ ہے جس کی معمولی سی بندش بھی پوری دنیا میں معاشی زلزلہ برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے خلیج عمان اور خلیج فارس کے درمیان واقع یہ تنگ آبی راستہ عالمی تیل کی تجارت کا مرکز ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 21 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں، جو کہ دنیا بھر میں سمندری راستے سے ہونے والی کل تجارت کا قریباً ایک تہائی اور مجموعی عالمی کھپت کا 20 فیصد بنتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی توانائی کی سلامتی کا ایک بڑا حصہ اسی مختصر سے سمندری ٹکڑے سے وابستہ ہے، اور یہاں پیدا ہونے والی کوئی بھی رکاوٹ براہِ راست عالمی منڈیوں میں سپلائی اور قیمتوں کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ کی ممکنہ بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں چین سرفہرست ہے، جو اپنی خام تیل کی کل درآمدات کا قریباً 50 فیصد یعنی روزانہ 10 ملین بیرل اسی راستے سے حاصل کرتا ہے۔ بھارت کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں، جسے اس صورت میں شدید توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ اس کی خام تیل کی نصف درآمدات اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی 60 فیصد سپلائی کا دارومدار آبنائے ہرمز پر ہے۔ جاپان اپنی ضرورت کا 75 فیصد اور جنوبی کوریا قریباً 65 فیصد تیل اسی راستے سے منگواتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایشیاء کی بڑی معیشتوں کا پہیہ اس راستے کے مرہونِ منت ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو ان ممالک میں صنعتی پیداوار سے لے کر نقل و حمل تک سب کچھ مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ صرف درآمد کنندگان ہی نہیں بلکہ خلیجی ممالک جو تیل برآمد کرتے ہیں، وہ بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہوں گے۔ سعودی عرب اپنی یومیہ برآمدات کا بڑا حصہ یعنی 5.5 ملین بیرل اسی راستے سے روانہ کرتا ہے، جبکہ قطر جیسا ملک جو مائع قدرتی گیس کا عالمی مرکز ہے، اسے اپنی ترسیل میں ناقابلِ تلافی تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس کے پاس گیس کی برآمد کا کوئی دوسرا متبادل بحری راستہ موجود ہی نہیں ہے۔ کویت اور عراق کے لیے صورتحال اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان کے پاس تیل کی برآمد کے لیے متبادل زمینی یا سمندری راستے انتہائی محدود ہیں۔ اس بحران کے اثرات براعظم افریقہ تک بھی پھیلیں گے جہاں کینیاء اور تنزانیہ جیسے ممالک جو ایندھن کی درآمد کے لیے اس راستے پر منحصر ہیں، فوری معاشی دباؤ کا شکار ہو جائیں گے، جبکہ یورپ کو اپنی 15 فیصد گیس کی فراہمی میں تعطل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ موجودہ عالمی حالات اور بحیرہ احمر میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اگر ہم جنگی صورتحال یا ایک دن کے تنازع کے نقصانات کا تخمینہ لگائیں تو متحدہ عرب امارات، قطر اور خلیج تعاون کونسل (GCC) کے دیگر ممالک کو ہونے والے نقصانات ہوش ربا ہیں۔ صرف ایک دن کے تعطل سے ہوا بازی کے شعبے کو فضائی حدود کی بندش کے باعث 1 سے 2 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ بحری جہازوں کے
انشورنس پریمیم اور فریٹ چارجز میں اچانک کئی گنا اضافہ عالمی تجارت کو مہنگا کر دے گا۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک 20 سے 30 فیصد تک کے ممکنہ اضافے اور سپلائی کی رکاوٹ سے 1 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان الگ سے ہوگا، جس کے نتیجے میں فی بیرل قیمت 150 ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاحت اور عام تجارت میں پڑنے والا خلل 2 سے 5 ارب ڈالر کے معاشی بوجھ کا باعث بنے گا، یوں مجموعی طور پر ایک دن کا عالمی معاشی نقصان 5 سے 10 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔ یہ معاشی دباؤ خطے کے ممالک کو اپنے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافے پر بھی مجبور کر سکتا ہے، جس کے اثرات طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں پر پڑیں گے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش محض توانائی کا بحران نہیں بلکہ ایک عالمی معاشی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ اس خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرے، کیونکہ اس آبی راستے میں اٹھنے والی ایک بھی لہر دنیا کے دور دراز علاقوں میں معاشی کساد بازاری اور مہنگائی کا طوفان لا سکتی ہے۔ مستقبل کے خطرات سے بچنے کے لیے جہاں متبادل پائپ لائنوں کی تعمیر پر توجہ دی جا رہی ہے، وہیں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آبنائے ہرمز کا کوئی بھی متبادل فی الحال اس کی کلیدی اہمیت کو کم نہیں کر سکتا۔ عالمی امن اور مستحکم معیشت کے لیے اس "چوک پوائنٹ" کی حفاظت کو یقینی بنانا پوری انسانیت کے مفاد میں ہے۔