محمد تسنیم رضا
مصدق کی حکومت کے خاتمے کے بعد محمد رضا شاہ کا اقتدار پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گیا۔ اگرچہ آئندہ چھبیس برسوں میں متعددوزرائے اعظم تبدیل ہوئے، لیکن ریاستی اختیارات کا حقیقی مرکز شاہ ہی رہا۔ پارلیمان اور کابینہ موجود تھیں، مگر اہم قومی اور خارجہ پالیسی کے فیصلے زیادہ تر شاہ کی مرضی سے ہی طے پاتے رہے۔
ان کے دور میں ایران نے معاشی اور صنعتی میدان میں بھی نمایاں ترقی کی۔ ملک بھر میں سڑکوں، ڈیموں، بجلی گھروں اور ہوائی اڈوں کا جال بچھایا گیا۔ اسٹیل، آٹوموبائل، پیٹروکیمیکل اور مشینری کی صنعتوں میں سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ جامعات اور تکنیکی اداروں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں انجینئرز، سائنس دانوں اور تکنیکی ماہرین کی ایک نئی نسل ابھرنے لگی۔
انیس سو تہتر میں عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تو ایران کی آمدنی میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا۔
اسی جنگ کے دوران سعودی عرب نے دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر تیل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیاتھاجس سے تیل کی قیت تین ڈالر سے بڑھ کر بارہ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔تیل سے حاصل ہونے والی اس دولت نے شاہ کو ترقیاتی منصوبوں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا، اور بظاہر ایران مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں میں شمار ہونے لگا۔
تاہم اقتصادی ترقی کے باوجود اس کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ سکے،خاص طور پر دیہی علاقے ترقی کے ثمرات سے محروم رہے۔ تیز رفتار صنعتی تبدیلی تو ہوئی لیکن دولت کی غیر مساوی تقسیم اور بدعنوانی نے مہنگائی میں بھی اضافہ کیا۔جس کی وجہ سے متوسط اور کم ا?مدنی والے طبقے میں بے چینی پیدا ہوئی ۔ان تمام خامیوں کے علاوہ شاہ کی ایک بڑی خامی اقتدار کو مسلسل اپنی ذات میں مرکوز کرنا بھی تھی۔ سیاسی جماعتیں کمزور ہو گئیں ، اختلافِ رائے کے لیے گنجائش محدود ہوتی گئی اور حکومت پر تنقید کو ریاستی مفادات کے خلاف سمجھا جانے لگا۔ خفیہ ایجنسی ساواک کو غیر معمولی اختیارت دیے گئے۔اس ایجنسی پر گرفتاریوں ، تشدد اوراظہار رائے کو دبانے کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ ان وجوہات کی بنا پر عوام میں ناراضی بڑھ گئی۔
یہی ناراضی ا?ہستہ ا?ہستہ شاہ کے لئے مسئلہ بنتی گئی۔ مذہبی حلقے، قوم پرست عناصر، طلبہ، دانش ور اور حکومت کے دیگر مخالفین یہ محسوس کرنے لگے کہ ایران کی خارجہ اور داخلی پالیسی پر امریکی اثر و رسوخ حد سے بڑھ چکا ہے۔ ان کے نزدیک شاہ صرف مغربی طرزِ زندگی کو فروغ نہیں دے رہے تھے بلکہ ایران کی تہذیبی، مذہبی اور سیاسی شناخت بھی بتدریج مغربی اثرات کے تابع ہوتی جا رہی تھی۔
آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اس عوامی بے چینی کو ایک منظم مذہبی اور سیاسی تحریک کی صورت دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔وہ سفید انقلاب کی اصلاحات کے ا?غاز سے ہی شاہ کے پالیسیوں پر شدید تنقید کررہے تھے۔ ان کے نزدیک شاہ ایران کو اسلامی شناخت سے دور کر کے مغربی ثقافت کے تابع کر رہے تھے ،وہ یہ بھی کہتے تھے کہ سفید انقلاب کی بعض اصلاحات مغربی ماڈل سے متاثڑ ہیں اور اسلامی معاشرت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ان کا کہنا تھا کہ شاہ کی حکومت امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار کررہی ہے جس سیایران کی خود مختاری متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے مغربی طرز لباس ،تفریح ،سماجی اقدار اور سیکو لر رحجانات کو اسلامی معاشرے کے لئے نقصان دہ قرار دیا
۔ جون 1963ء میں سفید انقلاب کے خلاف ایک تقریر کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ حکومت نے فوج کی مدد سے ان مظاہروں پر قابو پایا۔ اگست میں انہیں رہا کر کے نظر بند کر دیا گیا، جبکہ 1964ء میں ان کی نظر بندی بھی ختم کر دی گئی۔ اسی برس ایران کی پارلیمان نے ایک ایسا قانون منظور کیا جس کے تحت ایران میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کو عدالتی استثنا حاصل ہو گیا۔ آیت اللہ خمینی نے اس قانون کو ایران کی قومی خودمختاری کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ اس کے بعد ساواک نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا اور اسی روز ترکی جلاوطن کر دیا۔ ایک سال بعد وہ عراق کے شہر نجف منتقل ہو گئے، جہاں وہ تقریباً تیرہ برس مقیم رہے۔ بعد ازاں عراقی حکومت کے دباؤ کے باعث انہیں عراق بھی چھوڑنا پڑا اور وہ فرانس چلے گئے۔
جلاوطنی کے دوران آیت اللہ خمینی کے آڈیو کیسٹ، خطابات اور تحریریں خفیہ ذرائع اور طریقوں سے ایران پہنچتی رہیں اور اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کرتی رہیں، ا?خر ان کی کئی سال کی کوشش اور محنت رنگ لے ا?ئی اور انیس سو اناسی میں عوام محمد رضاشاہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔مرگ برا مریکہ کے نعرے لگنے لگیاورشاہ کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہو گئے۔ حکومت نے احتجاج کو تشدد سے دبانے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش کامیا ب نہ ہو سکی۔شاہ عوام سے ہار گئے اور سولہ جنوری 1979ء کو ایران چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے گئے۔ تقریباً پندرہ برس کی جلاوطنی کے بعد یکم فروری 1979ء کو آیت اللہ روح اللہ خمینی ایران واپس پہنچے، جہاں لاکھوں افراد نے ان کا استقبال کیا۔ صرف دس دن بعد، 11 فروری 1979ء کو شاہی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہو گیا۔ بعد ازاں اپریل 1979ء میں ریفرنڈم کے ذریعے ایران کو "اسلامی جمہوریہ" قرار دے دیا گیا۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کی داخلی سیاست ہی نہیں بلکہ اس کی خارجہ پالیسی بھی مکمل طور پر بدل گئی۔ شاہ کے دور میں امریکہ ایران کا سب سے بڑا اتحادی سمجھا جاتا تھا، لیکن انقلاب کے بعد نئی قیادت نے امریکہ کو "استکبارِ عالم" قرار دیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ نے ایران کے سیاسی معاملات میں مداخلت کر کے اس کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ 1953ء میں ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کے خاتمے میں امریکی کردار کو اس بیانیے کی سب سے مضبوط دلیل کے طور پر پیش کیا گیا۔
اسی پس منظر میں "مرگ بر امریکہ" کا نعرہ صرف احتجاجی نعرہ نہیں رہا بلکہ آہستہ آہستہ اسلامی جمہوریہ ایران کی انقلابی شناخت کا حصہ بنتا چلا گیا۔ ایرانی قیادت کے نزدیک یہ نعرہ امریکی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تھا، نہ کہ امریکی عوام کے خلاف، تاہم مغربی دنیا میں اسے عمومی طور پر امریکہ دشمنی کی علامت سمجھا گیا۔
اسلامی انقلاب کے فوراً بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑا بحران نومبر 1979ء میں اس وقت پیدا ہوا جب انقلابی طلبہ کے ایک گروہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا۔ طلبہ کا دعویٰ تھا کہ امریکہ دوبارہ ایران میں مداخلت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے،کیونکہ چند روز قبل امریکہ نے علاج کی غرض سے سابق شاہ محمد رضا پہلوی کو اپنے ملک آنے کی اجازت بھی دے دی تھی۔ انقلابی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا تھا کہ کہیں 1953ء جیسا کوئی اور آپریشن دوبارہ نہ دہرایا جائے۔
سفارت خانے سے امریکی سفارت کاروں اور دیگر اہلکاروں سمیت ۶۶لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا، بعدازاں خواتین اور افریقی نڑاد امریکیوں سمیت چودہ افراد کو رہا کر دیا گیا ،جبکہ باقی 52 امریکی شہری 444 دن تک قید رہے۔ امریکہ نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ ایران میں اسے انقلاب کے تحفظ کے لیے ضروری قدم کے طور پر پیش کیا گیا۔
اس بحران نے دونوں ممالک کے تعلقات تقریباً مکمل طور پر منقطع کر دیے۔ امریکہ نینومبر انیس سو اناسی میں ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں، ایرانی اثاثے منجمد کر دیے اور اپریل 1980ء میں تعلقات ختم کر دیے۔ اسی دوران یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے امریکی فوج نے ایک خفیہ فوجی کارروائی بھی کی، جسے آپریشن ایگل کلا (Operation Eagle Claw) کہا جاتا ہے۔
یہ کارروائی ایرانی صحرا کے ایک مقام "ڈیزرٹ ون" پر ہی ناکام ہو گئی۔ خراب موسم، فنی خرابیوں اور ہیلی کاپٹروں کی ناکافی تعداد کے باعث مشن منسوخ کرنا پڑا۔ واپسی کے دوران ایک ہیلی کاپٹر اور ایک فوجی طیارہ آپس میں ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں آٹھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس ناکامی نے نہ صرف امریکہ کو شدید سیاسی نقصان پہنچایا بلکہ ایران میں انقلابی حکومت کے مؤقف کو بھی تقویت ملی۔
بالآخر الجزائر کی ثالثی سے ہونے والے معاہدے کے تحت 20 جنوری 1981ء کو، رونالڈ ریگن کی بطور امریکی صدر حلف برداری کے دن، تمام امریکی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا۔ تاہم اس بحران نے دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو مزید گہرا کر دیا، جو آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔