راولپنڈی:پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے کیسز میں عدالتوں کی حکمت عملی پر تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں کیسز میں عدالتی حکمت عملی میں مختلف کرکٹ فارمیٹس کی طرح تبدیلی آئی ہے۔ ابتدا میں سرکاری حکمت عملی ٹی ٹوئنٹی کے فارمیٹ کی مانند تھی، جس میں جلد بازی میں فیصلے کیے گئے، پھر القادر کیس میں ون ڈے فارمیٹ اپنایا گیا اور اب ٹیسٹ میچز کی طرح مقدمات کو لمبے عرصے تک التوا میں ڈالا جا رہا ہے۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید کہا کہ اگر ہماری مرضی کی پیشیاں ہوں تو باقی دونوں کیسز بھی جلد ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے رمضان المبارک میں اڈیالہ جیل میں کیسز کی سماعت کی توقعات پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اس دوران کوئی سماعت نہیں ہوگی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے بیان پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب تمام کیسز کو روٹین اور نمبر پر سنا جائے گا، اور انہیں امید ہے کہ یہ فارمولا عمران خان کے کیسز پر نہیں اپلائی ہوگا۔ انہوں نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی کے کیسز پر فیصلہ کریں کیونکہ ججز کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہے اور اب کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے کہ فیصلے میں تاخیر ہو۔وکیل نے عدالت سے کسی ضمانت کی نہیں بلکہ میرٹ پر فیصلے کی درخواست کی اور کہا کہ وہ جلد سماعتوں کی بار بار درخواست دیں گے تاکہ مقدمات کا جلد فیصلہ ہو سکے۔