اسلام آباد: وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ جب چاہا نظام بدل دیا گیا، جس کی وجہ سے ملک کی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بہترین ذہن موجود ہیں، مگر ہمیں نظام میں استحکام لانے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کے راستے میں رکاوٹیں نہ آئیں۔احسن اقبال نے انٹرنیشنل انجینئرز ڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرنگ کے شعبے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ انجینئرز نے دنیا کے تمام عظیم عجوبے تخلیق کیے ہیں، اور پاکستان کی ترقی میں بھی انجینئرز کا اہم کردار ہے، خاص طور پر ڈیمز، شاہرات، ترقیاتی منصوبے، میزائل اور ایٹمی پروگرام میں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی انوویشن انڈیکس میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس وقت پاکستان اس انڈیکس میں 91ویں نمبر پر ہے، جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک اس میں بہت آگے ہیں۔ اس انڈیکس میں بہتری کی وجہ سے ان ممالک کی معیشت ترقی کر رہی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو ہمیں انجینئرنگ کے شعبے میں تعلیم اور جدت کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ "ہارڈ ویئر دینا حکومت کا کام ہے، جبکہ سافٹ ویئر بنانا جامعات کا کام ہے۔" انہوں نے اسرائیل کی ٹیکنالوجی کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی ٹیکنالوجی کی کامیابی نے اسے عالمی سطح پر مضبوط کیا ہے، اور ہمیں بھی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیشرفت کرنی ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اور جب بھی حکومت نے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی، حکومت بدل گئی۔ انہوں نے 2018 میں حکومت کے خاتمے کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے نتیجے میں کئی اہم منصوبے تعطل کا شکار ہوگئے، جیسے کہ سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، تو ہمیں سیاسی اور حکومتی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا اور نظام میں تبدیلیوں کا سلسلہ روکنا ہوگا تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔