پاکستان کو ڈیفالٹ میں دیکھنے کی سازشیں ناکام بنائیں گے: اسحاق ڈار

پاکستان کو ڈیفالٹ میں دیکھنے کی سازشیں ناکام بنائیں گے: اسحاق ڈار

اسلام آباد میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان (CCP) کے ہیڈ آفس کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔

معیشت اور چیلنجز پر اسحاق ڈار کا مؤقف:
دشمن پاکستان کو ڈیفالٹ میں دیکھنا چاہتا ہے، لیکن ہم معیشت کو بہتر بنا رہے ہیں۔آنے والے وقت میں معیشت کو درپیش چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جائے گا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج تمام اسٹاک مارکیٹوں کے انضمام کے بعد بلندیوں پر پہنچ چکی ہے۔2013 میں پاکستان کو غیر مستحکم مارکیٹ قرار دیا گیا تھا، لیکن بعد میں معیشت مستحکم ہوئی اور اسٹاک مارکیٹ بلند سطح پر پہنچی۔اگر پاکستان درست حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو 2030 تک جی 20 کا حصہ بن سکتا ہے۔
کارپوریٹ قوانین اور مسابقتی کمیشن کی اہمیت:
کارپوریٹ قوانین میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔مسابقتی کمیشن (CCP) صارفین کے حقوق کے تحفظ کا ذمے دار ہے۔حکومت نے اینٹی مناپلی قانون (Anti-Monopoly Law) کو مضبوط کیا تاکہ مارکیٹ میں شفافیت اور مسابقتی فضا کو یقینی بنایا جا سکے۔عوام میں مارکیٹ اجارہ داریوں (Monopolies) کے حوالے سے زیادہ آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی معیشت میں مواقع اور ترقی:
پاکستان کو قدرتی وسائل اور نعمتوں سے نوازا گیا ہے، جنہیں بروئے کار لا کر ملک کی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر کبیر سدھو کی قیادت میں مسابقتی کمیشن کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔
27 سال کے بعد SEO (State-Owned Enterprises) کے حوالے سے ایک کثیر الجہتی ایونٹ منعقد کیا گیا جو پاکستان کے معاشی استحکام کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔
اسحاق ڈار کے خطاب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کی ترقی کے لیے مارکیٹ میں شفافیت، سرمایہ کاری، اور نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔