بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی گئی

بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی گئی

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ کرانے پر دائر توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی ہے۔

سماعت کی تفصیلات
سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی۔قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ عدالتی حکم پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں؟ جس پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے درخواست گزار کے وکیل کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

سپریٹنڈنٹ جیل کا مؤقف
???? سپریٹنڈنٹ جیل نے بتایا کہ جیل قوانین میں ہفتہ وار ملاقات کی اجازت کا ذکر موجود نہیں، تاہم عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے ہر منگل بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرائی جا رہی ہے۔
???? ان کا کہنا تھا کہ وکیل فیصل چوہدری کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

عدالتی ریمارکس
???? قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا:
"یہ تو آپ کو فیور دے رہے ہیں۔"

???? وکیل فیصل چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ:
"مسئلہ سپریٹنڈنٹ جیل کی طرف سے نہیں، کہیں اور سے آتا ہے۔"

???? اس پر سپریٹنڈنٹ جیل نے جواب دیا کہ:
"مسئلہ کہیں سے بھی نہیں آتا۔"

???? چیف جسٹس نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا:
"ہم یہاں بیٹھے ہیں، ہم دیکھ لیں گے۔"

عدالتی فیصلہ
???? عدالت نے جیل حکام کی جانب سے عدالتی حکم پر عملدرآمد کی یقین دہانی کے بعد توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔
???? عدالتی حکم کے مطابق، ہر منگل بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات جیل میں کرائی جائے گی۔