مہنگائی میں کمی تشہیر کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی‘آٹا، چینی، گھی، دودھ، دہی، گوشت، سبزیاں اور پھل عوام کی پہنچ سے دور ہو گئے‘رمضان سہولت بازروں میں اشیاء کا معیار ناقص
پھل اور دیگر اشیاء کو خریدنے کے بجائے صرف دیکھ کر ہی دل بہلانے پر مجبور ہو گئے ہیں‘ پھلوں کی قیمتیں دوگنا ہو چکی ہیں‘ کھجور جو افطار کا لازمی جزو ہے اس کی قیمت بھی آسمان کو چھو رہی ہے:شہری
لاہور (رپورٹ:شہزاد راجپوت)پنجاب میں ماہ رمضان کے دوران اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔سبسڈی کے نام پر حکومتی دعوے عوام کے کام نہ آسکے۔پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام دکھائی دینے لگا۔مہنگائی کے ستائے غریب عوام ماہ رمضان میں ترسی نگاہوں سے فروٹ اور دیگر اشیاء کو دیکھ کر دل بہلانے پر مجبور ہو گئی۔مہنگائی میں کمی تشہیر کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی۔رمضان میں عام طور پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جاتا ہے، لیکن اس سال مہنگائی نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ آٹا، چینی، گھی، دودھ، دہی، گوشت، سبزیاں اور پھل عوام کی پہنچ سے دور ہو گئے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور ملتان سمیت دیگر شہروں میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔حکومت کی جانب سے رمضان بازاروں میں اشیاء خوردونوش پر سبسڈی دینے کے بلند و بانگ دعوے کیے گئے تھے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے رمضان بازاروں میں معیار کمزور جبکہ قیمتیں بازاروں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ سبسڈی کے نام پر عوام کو سہولت فراہم کرنے کی بجائے انہیں مزید مشکلات میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ سرکاری نرخ نامہ دکانداروں کے لیے محض ایک کاغذی کارروائی بن کر رہ گیا ہے۔ مارکیٹ میں چینی، آٹا اور دالوں کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں مگر انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔مہنگائی کی چکی میں پسے عوام ماہ رمضان میں سحر و افطار کی تیاری میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ عام شہریوں کا کہنا ہے کہ غریب عوام فروٹ اور دیگر اشیاء کو خریدنے کے بجائے صرف دیکھ کر ہی دل بہلانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پھلوں کی قیمتیں دوگنا ہو چکی ہیں جبکہ کھجور جو افطار کا لازمی جزو سمجھی جاتی ہے۔ اس کی قیمت بھی آسمان کو چھو رہی ہے۔ دکانداروں نے گوشت ‘پھل اور دیگر اشیاء مہنگی فروخت کرنے کے لئے ریٹ لسٹیں لگانا ہی چھوڑ دی ہیں‘ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے صرف تشہیر تک محدود ہیں جبکہ عملی طور پر کوئی اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے ہیں۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو سخت اقدامات کرنے ہوں گے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ماہِ رمضان کے
دوران مہنگائی کے طوفان پر قابو پانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ سستے رمضان بازاروں کو مزید فعال بنایا جائے۔ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ عام آدمی کو کچھ ریلیف مل سکے۔