حکومت کا صنعتوں کیلئے نیا بجلی ٹیرف لانے کا منصوبہ، زیادہ استعمال پر رعایت

حکومت کا صنعتوں کیلئے نیا بجلی ٹیرف لانے کا منصوبہ، زیادہ استعمال پر رعایت

حکومت نے صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے ٹیرف میں بڑی تبدیلی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت کم بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں پر زیادہ فکسڈ چارجز جبکہ زیادہ استعمال کرنے والوں کو فی یونٹ سستی بجلی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس نئی پالیسی کا مقصد صنعتی صارفین کو دوبارہ قومی گرڈ کی طرف لانا اور بجلی کی مجموعی طلب میں اضافہ کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے گرڈ کے فکسڈ اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیرف پالیسی آئندہ دو ماہ کے اندر نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ پلان کے تحت صنعتی بجلی کی قیمت 6 سے 8 سینٹ فی یونٹ تک لائی جا سکتی ہے، جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کی تجویز ہے۔رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کا ابتدائی اطلاق صرف صنعتی صارفین پر ہوگا، تاہم بعد میں اسے کمرشل اور گھریلو صارفین تک بھی توسیع دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ نیا ٹیرف پلان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کے ساتھ بھی شیئر کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے اس حوالے سے بجلی کے استعمال، گرڈ سے علیحدہ ہونے والی صنعتوں اور مجموعی ڈیٹا کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں کچھ صنعتوں کے سولر یا دیگر ذرائع توانائی پر منتقل ہونے کے باعث قومی گرڈ پر بوجھ اور مالی دباؤ بڑھا ہے، جس کے باعث ٹیرف میں یہ تبدیلی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔ابتدائی تخمینوں کے مطابق نئی پالیسی کے نفاذ سے بجلی کی طلب میں تقریباً 1000 میگاواٹ تک اضافہ متوقع ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام نہ صرف گرڈ کو مستحکم کرے گا بلکہ صنعتی پیداوار کو بھی بہتر بنانے میں مدد دے گا۔