قدیم انسانی تاریخ کے مشہور ترین آثار میں شمار ہونے والی اوٹزی ممی پر ایک نئی سائنسی تحقیق نے حیران کن انکشافات کیے ہیں، جنہوں نے ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق ہزاروں سال پرانی اس ممی کے اندر موجود بعض خردبینی جاندار اب بھی حیاتیاتی طور پر سرگرم ہیں اور انتہائی سرد ماحول میں اپنے آپ کو بدلنے اور زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ تحقیق سائنسی جریدے مائیکروبایوم میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اوٹزی کے جسم میں موجود کچھ قدیم آنتوں کے بیکٹیریا اور سردی میں زندہ رہنے والی خمیر (yeast) کی اقسام اب بھی محدود سطح پر حیاتیاتی سرگرمی ظاہر کر رہی ہیں۔اوٹزی کی ممی کو گزشتہ کئی دہائیوں سے خصوصی فریزر میں منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر محفوظ رکھا گیا ہے، تاکہ اس کی حالت برقرار رہے۔ تاہم تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض جراثیم نہ صرف موجود ہیں بلکہ وقت کے ساتھ اپنے ماحول کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔اٹلی کے یوراک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ محقق محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی کی جلد، اندرونی بافتوں اور پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کیا۔ اس دوران انہیں ایک پیچیدہ قدیم مائیکروبیل نظام ملا، جو انسانی جسم میں ہزاروں سال قبل موجود جراثیمی زندگی کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اوٹزی کی آنتوں میں موجود فعال بیکٹیریا اس کی آخری خوراک سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اوٹزی نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں چکنائی سے بھرپور جنگلی جانوروں کا گوشت، قدیم اناج اور ایک زہریلا فرن (fern) پودا استعمال کیا تھا۔ماہرین نے اس تحقیق میں کچھ نایاب بیکٹیریا بھی دریافت کیے، جن میں Romboutsia hominis اور Clostridium moniliforme شامل ہیں۔ یہ بیکٹیریا آج کل جدید شہری آبادیوں میں بہت کم پائے جاتے ہیں، تاہم کچھ دور دراز قبائلی علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔
تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو خمیری جراثیم کا رویہ تھا۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ نو برسوں میں ان کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور یہ جراثیم ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکلز کو بھی بطور توانائی استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت قدیم آثار کو محفوظ رکھنے کے موجودہ طریقۂ کار پر نئے سوالات اٹھاتی ہے، کیونکہ اگر انتہائی قدیم جراثیم ایسے ماحول میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں تو دنیا بھر کے میوزیمز میں موجود دیگر ممیوں کی اندرونی حالت پر بھی اثرات کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔اگرچہ اوٹزی کی موت اور اس کے قاتل کے بارے میں اب بھی اسرار برقرار ہے، لیکن اس کے جسم میں موجود مائیکروبایوم انسانی صحت، بیماریوں اور جراثیم کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کے لیے ایک اہم سائنسی موقع فراہم کر رہا ہے۔