ماہرینِ فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری کہکشاں ملکی وے (Milky Way) کے گرد تقریباً 100 ایسی مدھم اور دھندلی کہکشائیں گردش کر سکتی ہیں، جو اب تک جدید ترین آلات سے بھی نظروں سے اوجھل رہی ہیں۔ ان کو سادہ الفاظ میں یتیم کہکشائیں (Orphan Galaxies) کہا جا رہا ہے۔
یہ حیران کن انکشاف برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ برائے کمپیوٹیشنل کاسمولوجی کے ماہرین نے کیا، جنہوں نے انتہائی جدید سپر کمپیوٹر سمولیشنز اور ریاضیاتی ماڈلز کے ذریعے اس نظریے کی بنیاد رکھی۔
60 دریافت، درجنوں ابھی باقی؟
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر ایزابیل سانتوس کے مطابق:"ہمیں علم ہے کہ ملکی وے کے گرد اب تک 60 تصدیق شدہ سیٹلائٹ کہکشائیں دریافت ہو چکی ہیں، لیکن ہمارا ماننا ہے کہ کم از کم درجنوں ایسی بھی ہیں جو اب تک ہماری نظروں سے چھپی ہوئی ہیں۔"
یہ چھپی ہوئی کہکشائیں کیوں اہم ہیں؟
ان مدھم کہکشاؤں کو دریافت کرنا صرف سائنسی تجسس نہیں بلکہ کائنات کی ساخت (Cosmic Structure) اور ڈارک میٹر کے ماڈلز کی سچائی کو جانچنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ موجودہ نظریے کے مطابق:کائنات کا صرف 5 فیصد عام مادی اجزاء (atoms) پر مشتمل ہے
25 فیصد ڈارک میٹر
70 فیصد ڈارک انرجی
یہ کہکشائیں ممکنہ طور پر ڈارک میٹر کے جھرمٹوں (Halos) میں چھپی ہوئی ہیں اور ان کی دریافت سے ہم کائنات کی پوشیدہ مادّی ساخت کو بہتر سمجھ سکیں گے۔
ممکنہ دریافت کب؟
ماہرین پرامید ہیں کہ جیسے جیسے نئی دوربینیں اور مزید حساس مشاہداتی آلات سامنے آئیں گے، یہ چھپی ہوئی کہکشائیں منظرِ عام پر آ سکتی ہیں۔ ان کی دریافت:
فلکیاتی ماڈلز کو درست ثابت کرے گی
کائناتی ارتقاء کے مفروضات کو تقویت دے گی
اور ڈارک میٹر کے کردار کو مزید واضح کرے گی
یہ تحقیق کائنات کے اسرار پر سے پردہ اٹھانے کی ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے اور آنے والے سالوں میں مزید انقلابی انکشافات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔