فوری رسپانس کے لیے لاہور کے مختلف حساس مقامات پر 20 سے زائد ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں
لاہور(کرائم رپورٹر)ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران کی ہدایت پر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سیف سٹی کیمروں سے موصول ہونے والے الرٹس اور کالز پر کارروائی کرتے ہوئے ڈولفن سکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ (پی آر یو) نے مختلف کرائم ہیڈز میں مطلوب 11 گاڑیاں برآمد کر لیں۔ترجمان ڈولفن کے مطابق برآمد ہونے والی گاڑیوں میں 5 جعلی نمبر پلیٹس والی، 2 چوری شدہ، 2 بلیک لسٹ اور 2 مختلف مقدمات میں مطلوب گاڑیاں شامل ہیں۔ کارروائیاں سیف سٹی کے جدید سرویلنس سسٹم اور فیلڈ فورس کے باہمی اشتراک سے عمل میں لائی گئیں۔ایس پی ڈولفن بلال احمد نے کہا کہ سیف سٹی الرٹس پر فوری رسپانس کے لیے لاہور کے مختلف حساس مقامات پر 20 سے زائد ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جس کے باعث مطلوب، مشکوک اور چوری شدہ گاڑیوں کی بروقت نشاندہی اور روک تھام ممکن ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر حکمت عملی کے باعث جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت محدود ہونے لگی ہے۔ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران پکڑی جانے والی 2 بلیک لسٹ گاڑیوں کو مکمل جانچ پڑتال اور ضروری قانونی کارروائی کے بعد کلیئر کر دیا گیا، جبکہ دیگر گاڑیوں کو قانونی کارروائی کے لیے تھانہ فیصل ٹاؤن، چوہنگ، نشتر کالونی، اچھرہ، ہنجروال اور متعلقہ تھانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ایس پی ڈولفن بلال احمد کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیف سٹی اور لاہور پولیس کی مشترکہ حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے، جبکہ کیمرہ کالز پر فوری ایکشن کے ذریعے جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔