ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان ہوئے‘ 27 لاکھ 50 ہزار گائے اور بیل، 42 لاکھ بکرے، 5 لاکھ بھیڑیں اور 25 ہزار اونٹ شامل
27 لاکھ 50 ہزار گائے اور بیلوں کی کھالوں کی مالیت تقریباً 6 ارب 5 کروڑ روپے ہے‘جو مجموعی مارکیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ بنتی ہے
گائے ‘ بیل کی کھال 2200 روپے، بکرے کی کھال 600 روپے، بھیڑ کی کھال 100 روپے ‘ اونٹ کی کھال 2000 روپے میں فروخت ہوئی
لاہور(شہزاد راجپوت) پاکستان میں عیدالاضحیٰ 2026 کے دوران قربانی کے جانوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان ہوئے۔ جن سے حاصل ہونے والی کھالوں کی مجموعی مالیت 8 ارب 67 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سال قربان کیے جانے والے جانوروں میں 27 لاکھ 50 ہزار گائے اور بیل، 42 لاکھ بکرے، 5 لاکھ بھیڑیں اور 25 ہزار اونٹ شامل ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں قربانی کے جانوروں کی تعداد میں تقریباً 4 لاکھ 92 ہزار کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 7.06 فیصد بنتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گائے اور بیل کی کھالیں چمڑے کی صنعت کے لیے سب سے اہم خام مال ثابت ہوئیں۔ 27 لاکھ 50 ہزار گائے اور بیلوں کی کھالوں کی مالیت تقریباً 6 ارب 5 کروڑ روپے ہے۔ جو مجموعی مارکیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ بنتی ہے۔ دوسری جانب 42 لاکھ بکرے قربان ہوئے۔ جن کی کھالوں کی مجموعی مالیت 2 ارب 52 کروڑ روپے ہے۔ جو مجموعی مارکیٹ کا تقریباً 29 فیصد ہے۔پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سال گائے اور بیل کی ایک کھال کی اوسط قیمت 2200 روپے، بکرے کی کھال 600 روپے، بھیڑ کی کھال 100 روپے جبکہ اونٹ کی کھال 2000 روپے ہے۔ بھیڑوں اور اونٹوں کی کھالوں کی مجموعی مالیت تقریباً 10 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق عیدالاضحیٰ نہ صرف ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ پاکستان کی معیشت اور بالخصوص چمڑے کی صنعت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ قربانی کے جانوروں سے حاصل ہونے والی کھالیں چمڑے کی صنعت کو خام مال فراہم کرتی ہیں۔ جس سے جوتے، ملبوسات، دستانے، بیگز اور دیگر مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ یہ صنعت ملکی برآمدات میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور کھالوں کی بہتر قیمتوں نے رواں سال چمڑے کی صنعت کو ایک مثبت سہارا فراہم کیا ہے تاہم صنعت کو توانائی کی بڑھتی لاگت، پیداواری اخراجات اور عالمی منڈی میں طلب کے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔