حافظ محمد اقبال
پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27ء کیلئے ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے بظاہر عوام دوست اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے معاشی دباؤ نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، نئے ٹیکس نہ لگانے کا اعلان یقیناً عوام کیلئے کسی حد تک اطمینان کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ مالی حالات میں بغیر نئے ٹیکسوں کے صوبے کی ترقیاتی اور فلاحی ضروریات پوری کی جا سکیں گی؟ذرائع کے مطابق پنجاب کی مجموعی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 712 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ سروسز پر جنرل سیلز ٹیکس سے حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ ایکسائز ڈیوٹی، سٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس، موٹر وہیکل ٹیکس اور بجلی سے متعلق محصولات بھی آمدنی کے اہم ذرائع ہوں گے۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ حکومت نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے موجودہ نظام سے زیادہ وصولیاں حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔
بجٹ کی ایک مثبت جہت یہ بھی ہے کہ کسانوں، طلبہ اور مزدوروں کیلئے مختلف فلاحی پروگرام جاری رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ زرعی شعبے کیلئے ٹریکٹرز، سولر ٹیوب ویلز، بیج، کھاد اور زرعی قرضوں پر سبسڈی نہ صرف کسانوں کو ریلیف دے سکتی ہے بلکہ زرعی پیداوار میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اسی طرح طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ سکیم، ہونہار سکالرشپ پروگرام اور الیکٹرک بائیک سکیم نوجوانوں کی تعلیمی اور سفری ضروریات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔جنوبی پنجاب کیلئے ترقیاتی فنڈز کا کم از کم 35 فیصد مختص کرنے کی تجویز بھی اہم پیش رفت ہے۔ ماضی میں جنوبی پنجاب کے عوام مسلسل یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ وسائل کی تقسیم میں ان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔ اگر حکومت واقعی اس تجویز پر مؤثر عملدرآمد کرتی ہے تو اس سے پسماندہ علاقوں میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔تاہم دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ صوبائی حکومت کو بڑھتے اخراجات، تنخواہوں، پنشن اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے مسلسل زیادہ وسائل درکار ہیں۔ اگر آمدنی کے ذرائع میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو حکومت کو مالی خسارے اور ترقیاتی سست روی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ محض ٹیکس فری بجٹ کا اعلان کافی نہیں، اصل کامیابی اس بات میں ہوگی کہ حکومت محصولات کا نظام بہتر بنائے، ٹیکس چوری روکے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے۔
عوام اس وقت نعروں سے زیادہ عملی ریلیف چاہتے ہیں۔ اگر بجٹ میں دی جانے والی سہولتیں واقعی عام آدمی تک پہنچ گئیں تو یہ حکومت کیلئے سیاسی اور معاشی دونوں حوالوں سے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر ٹیکس فری بجٹ بھی محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے گا۔پنجاب حکومت کی جانب سے ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کے فیصلے کے عوام پر کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عام شہریوں پر نئے مالی بوجھ کا اضافہ نہیں ہوگا، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں کسی حد تک کمی رہ سکتی ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں جب روزمرہ استعمال کی اشیاء پہلے ہی مہنگی ہو چکی ہیں، نئے ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کیلئے ریلیف ثابت ہو سکتا ہے۔کسانوں کیلئے سبسڈی پروگرام زرعی شعبے میں بہتری لا سکتے ہیں۔ ٹریکٹرز، سولر ٹیوب ویلز، کھاد، بیج اور زرعی قرضوں میں سہولت ملنے سے پیداواری لاگت کم ہوگی، جس سے زرعی پیداوار بڑھنے اور کسانوں کی آمدنی بہتر ہونے کا امکان ہے۔ اس کے اثرات خوراک کی قیمتوں پر بھی مثبت انداز میں پڑ سکتے ہیں۔
طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ، ہونہار سکالرشپ اور الیکٹرک بائیک سکیم نوجوانوں کو تعلیم، ٹیکنالوجی اور سفری سہولتوں میں مدد فراہم کرے گی۔ اس سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہو سکتا ہے بلکہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے میں بھی آسانی ہوگی۔جنوبی پنجاب کیلئے ترقیاتی فنڈز کا 35 فیصد مختص کرنے کی تجویز بھی اہم ہے۔ اگر اس پر مؤثر عمل ہوا تو پسماندہ علاقوں میں سڑکوں، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں میں بہتری آ سکتی ہے، جس سے علاقائی محرومیوں میں کمی آئے گی۔اسی طرح چونکہ بجٹ میں نئے ٹیکس شامل نہیں ہوں گے، اس لیے کاروباری طبقے کو بھی استحکام مل سکتا ہے۔ سرمایہ کار اور تاجر نئے مالی دباؤ سے محفوظ رہیں گے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔مجموعی طور پر اگر حکومت اپنی فلاحی سکیموں پر شفاف اور مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنائے تو یہ بجٹ پنجاب کے عوام کیلئے معاشی ریلیف، زرعی ترقی، تعلیمی سہولتوں اور علاقائی بہتری کا سبب بن سکتا ہے۔
ٹیکس فری بجٹ کے پنجاب کے عوام پر مزید کئی مثبت سماجی اور معاشی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے ٹیکس نہ لگنے سے مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔ عام طور پر جب حکومت نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے، مگر ٹیکس فری بجٹ سے عوام کو فوری مہنگائی کے جھٹکے سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔صنعتی اور کاروباری شعبے کیلئے بھی یہ بجٹ مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ جب تاجروں اور صنعتکاروں کو اضافی ٹیکسوں کا سامنا نہیں ہوتا تو وہ سرمایہ کاری بڑھانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ اس سے نئے کاروبار، چھوٹی صنعتوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ خصوصاً چھوٹے کاروباری طبقے کو مالی استحکام ملے گا۔زرعی شعبے میں سولر ٹیوب ویلز اور زرعی سبسڈی سے بجلی اور ایندھن کے اخراجات کم ہونے کا امکان ہے۔ اس سے کسانوں کی پیداواری لاگت کم ہوگی اور دیہی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔ اگر زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا تو خوراک کی دستیابی بہتر ہوگی اور مستقبل میں غذائی مہنگائی پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں لیپ ٹاپ اور سکالرشپ پروگرام نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو بھی بہتر تعلیمی مواقع میسر آئیں گے، جس سے تعلیمی عدم مساوات کم ہونے کی امید پیدا ہوگی۔ الیکٹرک بائیک سکیم خصوصاً طالبات اور ملازمت پیشہ نوجوانوں کیلئے سفری سہولتوں میں آسانی پیدا کر سکتی ہے۔جنوبی پنجاب کیلئے زیادہ ترقیاتی فنڈز مختص ہونے سے وہاں سڑکوں، ہسپتالوں، سکولوں اور پینے کے پانی جیسے بنیادی منصوبوں پر کام تیز ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف معیارِ زندگی بہتر ہوگا بلکہ مقامی سطح پر روزگار بھی پیدا ہوگا۔اس بجٹ کا ایک اہم نفسیاتی اثر بھی ہو سکتا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ملتا ہے کہ حکومت ان پر اضافی بوجھ
ڈالنے کے بجائے ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے تو حکومتی پالیسیوں پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اعتماد معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کیلئے بھی مثبت ماحول پیدا کرتا ہے۔ٹیکس فری بجٹ پنجاب کی معیشت کیلئے طویل المدتی استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔