"ٹیکس کا کھیل: محنت پنجاب کی، نفع کسی اور کا"

عمران مغل 

پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں ٹیکس کی تقسیم ہمیشہ ایک حساس اور متنازعہ موضوع رہی ہے۔ سب سے زیادہ شور اس نکتے پر مچتا ہے کہ "سندھ سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے"۔ یہ جملہ بار بار دہرایا جاتا ہے، حتیٰ کہ اسے ایک مسلمہ حقیقت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ذرا باریک بینی سے حقائق کا مطالعہ کیا جائے تو یہ نعرہ محض ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔

پنجاب کی اصل معاشی تصویر

پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہاں 60 فیصد سے زائد آبادی بستی ہے، صنعتی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ یہیں سے آتا ہے، زراعت کے میدان میں پنجاب سب سے آگے ہے اور تجارتی سرگرمیوں کا اصل محور بھی یہی خطہ ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور ملتان جیسے شہر نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی صنعت و تجارت کے مراکز سمجھے جاتے ہیں۔

بینکنگ کے اعداد و شمار اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ پاکستان کے اسی فیصد اکاؤنٹس پنجاب میں کھلتے ہیں اور نوے فیصد سے زائد ڈیپازٹس پنجاب کے شہروں سے جمع ہوتے ہیں۔ مگر ٹیکس ریٹرنز کے معاملے میں کھیل الٹ ہے۔ کمپنیوں کے ہیڈ آفس کراچی میں رجسٹرڈ ہیں، اس لیے وہ اپنی ریٹرنز بھی کراچی میں جمع کراتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پنجاب کی پیداوار اور سرمایہ کاری کا کریڈٹ سندھ کے کھاتے میں چلا جاتا ہے۔

صوبائی محصولات کا کھیل

سندھ حکومت یہ ظاہر کرتی ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکس وہ دیتی ہے، حالانکہ اصل سرمایہ پنجاب سے نکل رہا ہوتا ہے۔ اسے یوں سمجھ لیجیے کہ اگر لاہور میں ایک فیکٹری روزانہ اربوں کا کاروبار کر رہی ہے مگر اس کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے، تو اس کی تمام ریٹرنز سندھ میں جمع ہوں گی۔ یوں سندھ صوبائی محصولات کی مد میں اضافی رقوم وصول کرتا ہے۔ پنجاب کی محنت اور سرمایے پر کسی اور کا نام لگ جاتا ہے۔

کرپشن کا "فکس ریٹ"

یہی وجہ ہے کہ جب پنجاب کے ایک بڑے صنعت کار سے پوچھا گیا کہ آپ کا دفتر لاہور میں ہے، کاروبار پنجاب میں ہے تو ریٹرن کراچی میں کیوں؟ ان کا جواب بڑا معنی خیز تھا:
"کراچی میں کرپشن کا ریٹ فکس ہے، وہاں بھاؤ تاؤ نہیں کرنا پڑتا۔"
یہ جملہ صرف ہنسی مذاق نہیں بلکہ ہمارے پورے مالیاتی ڈھانچے پر ایک تلخ طنز ہے۔ ٹیکس دینے والا بھی اس نظام کو کرپشن کے ترازو پر تولنے پر مجبور ہے۔

حل کیا ہے؟

اگر پنجاب کی وزیر اعلیٰ ایک سادہ سا انتظامی فیصلہ کر دیں کہ پنجاب میں کاروبار کرنے والا ہر ادارہ اپنی ٹیکس ریٹرن بھی پنجاب میں فائل کرے گا، تو "سندھ سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے" والا افسانہ لمحوں میں زمین بوس ہو جائے گا۔ تب اصل تصویر یہ سامنے آئے گی کہ ملک کو سب سے زیادہ سہارا دینے والا صوبہ دراصل پنجاب ہی ہے۔

یہ وقت ہے کہ پنجاب اپنی اصل معاشی طاقت کو تسلیم کرائے اور اپنے جائز حصے کا حق وصول کرے۔ ورنہ تاریخ یہی کہتی رہے گی کہ پنجاب نے دیا سب کچھ، مگر کریڈٹ کسی اور نے لے لیا۔
 سچ یہ ہے کہ اگر پنجاب جاگ جائے تو دعوے نہیں، حقیقت بولے گی۔

سوچنے کی بات

اب سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب اپنی محنت اور سرمائے کا حساب اپنے نام پر لکھوانے کے لیے کوئی قدم اٹھائے گا؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح دوسروں کے کھاتے بھر کر، تالیوں اور کریڈٹ سے بھی محروم رہے گا؟