منشیات فری پاکستان؟

ملک یونس  غوری
منشیات کی اسمگلنگ اورکاروبار کی پچھلی ششماہی کی طرح  روک تھام اور تدارک گورنمنٹ پنجاب کا بڑا  ہی احسن اقدام ہے اس دلیری اور گڈ گورنیس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے بات بہت اچھی اورسوچ کی پاکیزگی اور نیک  نیتی کی ہے  کہ  مریم نواز نے بطور وزیر اعلٰی  پنجاب ہی نہیں بلکہ  جنید صفدر کی ماں ہوتے جو اقدامات عملی  طور پر کر کے بہترین اور قابل رشک تربیت کی ہے ایسے انہوں پورے پنجاب  کے بیٹوں کے مستقبل اورانکی جوانیاں بچانے کے لئے عملی اور قانونی کارروائی کردی ہے اپ نے منشیات کے تدارک کیلئے پیرا فورس متحرک کیا تھا جس کے نتائج سب کے سامنے  ہیں اور اپ انسداد منشیات فورس جدید  طرز  سے منظم ومتحرک کرکے لاکھوں بیٹوں  بھائیوں کی جان بچانے کا مدبرانہ بہادرانہ عملی اور قانونی اقدام کردیا  اس اقدام سے کء سہاگنوں کے سہاگ بچانے کے  جرات مندانہ اقدام ہوگئے  ہیں‘پھر داستان بھی نہیں ہوگی  داستانوں  میں انتہائی دکھ سے کہنا چاہتا  ہوں  کی پاکستان میں اعلی ریاستی اداروں اور حکومت  کی جانب سے اس دلیری  کا مظاہرہ  نہیں کیا گیا جو مریم نواز حکومت نے کیا ہے جبکہ دوسرے صوبوں میں منشیات کی اسمگلنگ اورکاروبار کو روکنے کے کوء اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اور  مستقبل قریب میں کوئی  امید  نہیں ہے‘اسکی وجہ مالی مفادات اور حکومتوں میں شامل کئی شراکت دار اور غیر ملکی ایجنسیوں کے ایجنٹ اور غیر ملکی ادارے نیز اور ریاست  پاکستان کے دشمن بھی ریاست پاکستان اور سادہ لوح  پاکستانیوں کوکھوکھلا اور تباہ وبرباد کر رہے ہیں  میرا  منشیات خوروں اور منشیات فروشوں کو سادہ سا  پیغام ہے کی آپ کہیں اورکاروبار وٹھکانہ کرلیں ہم نئے عزم سے پنجاب و پاکستان سجا رہے ہیں ہم سب پاکستانیوں کی خواہش ہے  مریم نواز شریف  نواز شریف اورشہباز شریف  وزیراعظم  پاکستان کی ولولہ  ہم انگیز قیادت میں ہمارا پاکستان منشیات  فری ریاست  بنے‘پاکستان کانام بھی مہذب ممالک میں شامل  ہو سکے اور پاکستانی قوم بھی سراٹھاکر عالمی برادری کا سامنا کرسکے اور گرین پاسپورٹ کی توقیر وحرمت ہو اور پاکستانی کمیونٹی بھی فخر سے دنیا میں سفر کر سکیں اور رہ سکیں۔
           ہر خواہش ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے 
      بہت نکلے میرے ارمان پھر بھی کم نکلے