عابد گوندل
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر اس مقام پر آن پہنچی ہے جہاں حکومت اور عوام کے مفادات ایک دوسرے کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے لیے مجوزہ وفاقی بجٹ کی تفصیلات منظرِ عام پر آنا شروع ہو چکی ہیں اور ان میں سب سے اہم پہلوآئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ ٹیکس اصلاحات ہیں، جن کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، ٹیکس چوری کا خاتمہ اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات واقعی معیشت کو درست سمت میں لے جا سکیں گے؟ یا یہ صرف عوام پر مزید بوجھ ڈالنے اور مہنگائی کا طوفان برپا کرنے کا ذریعہ بنیں گے؟بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستانی حکومت پر واضح دباؤ ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرے اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات اٹھائے۔ اس ضمن میں کچھ انتہائی سخت تجاویز دی گئی ہیں۔۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ایف بی آر اور متعلقہ ٹیکس اداروں کو مکمل اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی کر سکیں۔۔ٹیکس کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے تاکہ Point of Sale نظام کو مؤثر بنایا جا سکے اور ریئل ٹائم ڈیٹا سے ٹیکس کی چوری کو روکا جا سکے۔وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق POS پر ٹیکس چوری کا جرمانہ جو پہلے 5 لاکھ روپے تھا، اب اسے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فوجداری مقدمات درج کرنے کی اجازت دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔آئی ایم ایف کی طرف سے سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نے زراعت سے وابستہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت پر دباؤ ہے کہ سولر پینلز پر دی جانے والی ٹیکس استثنیٰ کو ختم کیا جائے۔کھاد، زرعی اسپرے، اور مشینری پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کیا جائے۔ زرعی ان پٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائے۔۔یہ اقدامات نہ صرف زرعی شعبے کو مزید نقصان پہنچائیں گے بلکہ خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافے کا سبب بنیں گے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو فوڈ سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، زرعی سبسڈی کا خاتمہ انتہائی خطرناک فیصلہ ہو سکتا ہے۔۔۔ذرائع کے مطابق حکومت پرتعیش اشیاء پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 25 فیصد سے بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ اس میں ممکنہ طور پر مہنگی گاڑیاں، درآمدی اشیاء ، کاسمیٹکس، قیمتی ملبوسات اور مہنگے الیکٹرانک آلات شامل کیے جا سکتے ہیں۔یہ بظاہر ایک مثبت قدم ہے کیونکہ اس کا مقصد وہ طبقہ ہے جو ٹیکس نیٹ میں ہونے کے باوجود ٹیکس سے بچ نکلتا ہے۔ لیکن ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اشرافیہ ایسے اقدامات سے بچ نکلنے کے لیے راستے نکال لیتی ہے، جب کہ اصل دباؤ بالآخر مڈل کلاس اور کم آمدنی والے طبقات پر آتا ہے۔۔آئی ایم ایف نے ایک بار پھر حکومت پاکستان کو ہدایت دی ہے کہ وہ ٹیکس نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرے۔ POS نظام کو ریئل ٹائم میں ایف بی آر سے منسلک کرنے، نادرا ڈیٹا کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے، اور بینک ٹرانزیکشنز کی نگرانی جیسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔اگرچہ یہ تجاویز جدید ہیں اور دنیا بھر میں کامیابی کے ساتھ استعمال کی جا رہی ہیں، لیکن پاکستان میں ان کے نفاذ کے لیے درکار سیاسی عزم، ادارہ جاتی صلاحیت اور عوامی اعتماد کی شدید کمی ہے۔
اگر حکومت ان تجاویز پر مکمل عمل درآمد کرتی ہے تو اس کے نتائج عام آدمی کے لیے شدید تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔۔زرعی ان پٹس پر ٹیکس کے بعد اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔سولر پینلز پر ٹیکس عائد ہونے سے توانائی بحران سے نکلنے کی واحد سستی اور پائیدار راہ بھی متاثر ہوگی۔ POSجرمانے اور فوجداری مقدمات سے چھوٹے تاجروں میں خوف کی فضا قائم ہو سکتی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں کمی آئے گی۔موجودہ حکومت کو پہلے ہی سیاسی طور پر کمزور سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر یہ سخت گیر بجٹ نافذ کیا جاتا ہے تو حکومت کو عوامی ردِعمل، تاجر برادری کی ہڑتالوں، اور اپوزیشن کے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ تمام عوامل سیاسی عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتے ہیں، جس سے معیشت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔حکومت کو چاہئے کہ سخت ٹیکس اصلاحات کو مرحلہ وار نافذ کرے تاکہ معیشت پر فوری دباؤ نہ آئے۔غریب کسان اور متوسط طبقے کے لیے سبسڈی برقرار رکھتے ہوئے اشرافیہ کے لیے سبسڈی ختم کرے۔ ایف بی آر اور دیگر اداروں کو کرپشن سے پاک اور جدید طرز پر استوار کرے تاکہ رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی میں اضافہ ہو۔۔اپوزیشن، بزنس کمیونٹی اور سوسائٹی کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر ٹیکس اصلاحات کرے تاکہ پائیدار اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ سالہا سال سے ملک کی معیشت غیر دستاویزی، بدعنوان اور غیر منصفانہ رہی ہے۔ اگر ہم واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو اس نظام کو بدلنا ہوگا۔لیکن ان اصلاحات کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی پر ڈالنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ عوامی اعتماد کو مزید مجروح کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کو عوامی مفاد کے ساتھ متوازن کرے، اور ایک ایسا بجٹ پیش کرے جو معاشی ترقی، غربت میں کمی، اور سماجی انصاف کے تقاضے پورے کر سکے۔