نیدرلینڈز فٹبال فیڈریشن نے فیفا ورلڈکپ 2026 سے اخراج کے بعد اپنے سیاہ فام کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا پر نسلی تعصب کا نشانہ بنانے کے خلاف سخت اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مراکش کے ہاتھوں شکست کے بعد نیدرلینڈز کے کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ اور امتیازی پیغامات کا سامنا کرنا پڑا ہے، خاص طور پر پنالٹی شوٹ آؤٹ کے دوران ناکامی کے بعد۔ورلڈکپ کے راؤنڈ آف 32 میں، مقابلہ 1-1 سے برابر ہونے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں نیدرلینڈز کو مراکش نے شکست دی۔ جسٹن کلائیورٹ، کوئنٹن ٹمبر، اور کریسینسیو سمرول جیسے کھلاڑیوں نے پنالٹیز کے دوران اپنا مواقع ضائع کیے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نسل پرستی اور امتیازی تبصرے شروع ہو گئے۔اس واقعے کے بعد، نیدرلینڈز فٹبال فیڈریشن نے سرکاری طور پر پراسیکیوٹر کے دفتر میں شکایت درج کرائی ہے۔ فیڈریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تمام نفرت انگیز پیغامات کی نشاندہی ممکن نہیں، لیکن اس اقدام کا مقصد واضح پیغام دینا ہے کہ نسل پرستانہ رویے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ادھر، نیدرلینڈز کے وزیراعظم روب جیٹن نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کامیابی کے وقت کھلاڑیوں کو قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک غلطی پر ان کے خلاف نفرت انگیز مہم ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ استغاثہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرے گا تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔یہ واقعہ نسل پرستی کے خلاف عالمی سطح پر جاری مہم کو مزید اہمیت دیتا ہے، اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ کھیل کے میدان اور سوشل میڈیا دونوں جگہ نفرت اور تعصب کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔