جرمنی کے شہر ایرفرٹ میں دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (AfD) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہزاروں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بند کر دیں، جس سے شہر میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
پولیس کے مطابق تقریباً 15 ہزار مظاہرین نے احتجاج میں حصہ لیا۔ احتجاج میں ٹریڈ یونینز، سول سوسائٹی تنظیموں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کارکن شامل تھے، جنہوں نے کنونشن سینٹر جانے والے اہم راستوں پر دھرنے دیے اور اجلاس میں شرکت کرنے والوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالی۔سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جرمنی کے مختلف علاقوں سے اضافی پولیس نفری بھی طلب کی گئی تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔مظاہرے میں شامل "ویڈرزیٹزن" (Resist) اتحاد کے ترجمان جارج بیکر نے کہا کہ احتجاج کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسند سوچ کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ ان کے مطابق جرمنی میں فاشزم کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب AfD کا دو روزہ سالانہ اجلاس جاری ہے، جس میں شریک چیئرمین ایلس وائڈل اور ٹینو کروپالا کی دوبارہ قیادت کے لیے انتخاب متوقع ہے۔ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقی جرمنی کی اہم ریاستوں سیکسنی انہالٹ اور میکلن برگ ویسٹرن پومیرانیا میں آئندہ انتخابات قریب ہیں۔
رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق AfD کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور بعض سرویز میں اس کی حمایت 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سیکسنی انہالٹ میں جماعت کو 41 فیصد تک عوامی حمایت ملنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جو اسے پہلی بار کسی ریاست میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں لا سکتی ہے۔AfD اپنی سخت امیگریشن پالیسی، قوم پرستانہ مؤقف اور معاشی مسائل پر حکومت پر تنقید کے باعث مقبولیت حاصل کر رہی ہے، تاہم ناقدین اسے جمہوری اقدار کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ جرمنی کی بڑی سیاسی جماعتیں اب بھی AfD کے ساتھ کسی بھی اتحادی حکومت سے انکار کرتی ہیں۔ادھر AfD قیادت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف رکھتی ہے کہ جماعت جرمنی کے آئینی و جمہوری نظام کی حامی ہے۔