تل ابیب: اسرائیل کے وزیراعظم اور لیکوڈ پارٹی کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو نے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد دائیں بازو کی حکومت تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عوام نے دائیں بازو کی جماعتوں کو فیصلہ کن حمایت دی ہے، تاہم ابتدائی نتائج اور ایگزٹ پولز کے مطابق کسی بھی سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ایک مضبوط قومی دائیں بازو کی حکومت بنانے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب ابتدائی انتخابی اندازوں میں ان کے سیاسی اتحاد کو مرکزی اپوزیشن اتحاد پر معمولی برتری حاصل ہے، لیکن حکومت بنانے کے لیے درکار نشستوں کی تعداد حاصل کرنا تاحال غیر یقینی ہے۔
ووٹوں کی گنتی جاری، لاکھوں ووٹوں کے نتائج سامنے آگئے
اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 27 اکتوبر کو جاری ہونے والی تازہ ترین صورت حال میں 27 لاکھ سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی، جو مجموعی ووٹوں کا تقریباً 55.4 فیصد بنتے ہیں۔ابتدائی نتائج کے مطابق بنیامین نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کو 20.8 فیصد درست ووٹ ملے، جبکہ ایزن کوٹ کی یاشار پارٹی 17.06 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ نفتالی بینیٹ کے اتحاد ’ٹوگیدر‘ نے 9.2 فیصد ووٹ حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ عرب قیادت میں قائم جوائنٹ لسٹ کے نتائج بھی حکومت سازی کے منظرنامے میں اہمیت رکھتے ہیں۔
عرب جماعتوں کی نشستیں بھی حکومت سازی میں اہم
ابتدائی اندازوں کے مطابق عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 18 سے 19 پارلیمانی نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم دونوں بڑے سیاسی دھڑوں کی جانب سے ان جماعتوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے حوالے سے واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔اسرائیل میں حکومت بنانے کے لیے پارلیمان میں کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر کسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو تو چھوٹی جماعتوں کی حمایت، اتحادی مذاکرات اور سیاسی مفاہمت حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔
ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً تین دہائیوں کی بلند ترین سطح پر
مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جسے تقریباً تین دہائیوں میں بلند ترین شرح قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ میں اس نمایاں شرکت کے باوجود ابتدائی نتائج نے سیاسی صورت حال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
حکومت سازی کا فیصلہ حتمی نتائج کے بعد ہوگا
انتخابی نتائج ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ووٹوں کی مزید گنتی کے ساتھ مختلف جماعتوں کی پوزیشن تبدیل ہوسکتی ہے۔ حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ کون سا سیاسی اتحاد مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے اور حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں آتا ہے۔