انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ میں ایک بار پھر داخلہ

انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ میں ایک بار پھر داخلہ

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر  اتمار بن گویر نے ایک بار پھر درجنوں غیر قانونی آباد کاروں کے ہمراہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر صورتحال کو کشیدہ بنا دیا ہے۔

مقامی اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق بن گویر سخت سیکیورٹی میں مسجدِ اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے، جہاں ان کے ہمراہ اسرائیلی آباد کاروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں کی جانب سے اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ مقدس مقام پہلے ہی حساس ترین مذہبی اور سیاسی تنازع کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔مسجد اقصیٰکے احاطے میں اس نوعیت کے دوروں کو فلسطینی عوام اور مذہبی حلقے سخت اشتعال انگیزی اور اشتراکی جذبات کو بھڑکانے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ ایک ہفتے کے دوران دوسرا موقع ہے جب اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔مزید یہ کہ اسرائیلی آباد کاروں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کی نجی زمینوں پر غیر قانونی طور پر آباد ہیں، جس پر پہلے ہی عالمی سطح پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ مغربی کنارے اور  میں یہ آبادیاں طویل عرصے سے تنازع کا سبب بنی ہوئی ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام سے متعلق ایک بڑا فیصلہ بھی کیا تھا، جس کے تحت 34 نئی بستیوں کی منظوری دی گئی تھی۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ کابینہ کی سطح پر منظور کیا گیا، جس پر فلسطینی اتھارٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت ردعمل دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق مسجدِ اقصیٰ جیسے حساس مذہبی مقام پر بار بار ایسے اقدامات نہ صرف زمینی سطح پر کشیدگی بڑھا رہے ہیں بلکہ پورے خطے میں پہلے سے موجود سیاسی اور مذہبی تناؤ کو بھی مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔