فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پہلی بار شرکت کرنے والے افریقی ملک کیپ وردے نے اگرچہ ٹائٹل اپنے نام نہیں کیا، لیکن اپنی شاندار کارکردگی، جرات مندانہ کھیل اور غیرمتزلزل عزم سے دنیا بھر کے فٹبال شائقین کے دل جیت لیے۔
’ہار کے جیتنے والے کو بازی گر کہتے ہیں‘، یہ مشہور جملہ کیپ وردے کی ٹیم پر پوری طرح صادق آتا ہے، جس نے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں توقعات سے بڑھ کر کھیل پیش کیا۔راؤنڈ آف 32 میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کے خلاف 2-3 کی سنسنی خیز شکست کے باوجود کیپ وردے کی کارکردگی کو ٹورنامنٹ کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ لیونل میسی کی قیادت میں مضبوط ارجنٹائن ٹیم کے خلاف کیپ وردے نے دو مرتبہ خسارہ ختم کرتے ہوئے مقابلہ برابر کیا اور آخری لمحوں تک سخت مزاحمت جاری رکھی۔دنیا کی 67ویں رینکنگ رکھنے والی ٹیم نے گروپ مرحلے میں یورپی چیمپئن اسپین کو گول کرنے سے روک کر سب کو حیران کر دیا، جبکہ یوراگوئے کے خلاف اپنی تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ گول بھی اسکور کیا۔ارجنٹینا کے خلاف میچ میں سڈنی لوپس کابرال کا شاندار گول شائقین کی توجہ کا مرکز بنا، تاہم اضافی وقت میں ایک بدقسمت ڈیفلیکشن کے باعث ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کا سفر اختتام پذیر ہوا۔ہیڈ کوچ بوبستا نے کہا کہ ان کی ٹیم نے ثابت کر دیا کہ ایک چھوٹا ملک بھی دنیا کی بہترین ٹیموں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے۔
ٹیم کے کپتان اور دیگر کھلاڑیوں نے بھی اس مہم کو ملکی فٹبال کی تاریخ کا یادگار باب قرار دیا۔ٹورنامنٹ میں 40 سالہ گول کیپر ووزینیا بھی ہیرو بن کر ابھرے، جنہوں نے اسپین اور ارجنٹینا کے خلاف متعدد شاندار سیوز کیے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 18 سیوز کیے، جو اس ورلڈ کپ کا تیسرا بہترین ریکارڈ رہا۔سابق انگلش فٹبالرز گیری نیول اور ایان رائٹ نے بھی کیپ وردے کی کارکردگی کو عالمی فٹبال کے لیے متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ٹورنامنٹس میں چھوٹے ممالک کو زیادہ مواقع ملنے چاہییں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔اگرچہ کیپ وردے کا سفر راؤنڈ آف 32 پر ختم ہوگیا، لیکن اس ٹیم نے ثابت کر دیا کہ عزم، محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے محدود وسائل رکھنے والی قومیں بھی عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا سکتی ہیں۔