’انا منکم و علیکم‘: ظہران ممدانی کی عربی میں تقریر سے تارکین وطن اور اقلیتوں کا پیغام

’انا منکم و علیکم‘: ظہران ممدانی کی عربی میں تقریر سے تارکین وطن اور اقلیتوں کا پیغام

نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی نے اپنی پہلی تقریر میں تارکین وطن اور عرب کمیونٹی کے ساتھ گہری اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔

 انہوں نے اپنی تقریر میں عربی زبان میں بات کرتے ہوئے، اپنی جیت کی خوشی اور شہر کے مختلف گروہوں کا شکریہ ادا کیا۔ ممدانی نے کہا کہ یہ کامیابی ان تارکین وطن اور اقلیتوں کی محنت کا نتیجہ ہے جنہوں نے شہر کی سیاست میں اپنا اثر چھوڑا ہے، اور یہ کہ شہر اب ایک نئے عہد کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے اسٹین وے میں اپنے خطاب کے دوران کہا، "انا منکم و علیکم" یعنی "میں آپ میں سے ہوں اور آپ کے لیے ہوں"، جس سے ان کی ہمدردی اور اتحاد کا پیغام واضح ہوتا ہے۔انہوں نے خاص طور پر کوئنز کے علاقے کے اسٹین وے اسٹریٹ کا ذکر کیا، جسے اکثر ’لٹل مصر‘ کہا جاتا ہے، جہاں عربی ثقافت، کیفے، شیشہ لاؤنجز، بیکریاں اور ریسٹورنٹس کی بہتات ہے۔

ممدانی نے تارکین وطن، خاص طور پر عرب کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ شہر سب کا ہے، اور اس کی سیاست میں ان کا کردار اہم ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ظہران ممدانی نے عربی زبان میں بات کی ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عربی میں ویڈیوز جاری کی تھیں، جس سے ان کی عرب اور تارکین وطن کمیونٹیز کے ساتھ گہری محبت اور حمایت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ تاریخ ساز کامیابی نیویارک کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ ظہران ممدانی شہر کے پہلے مسلم اور بائیں بازو کے میئر بنے ہیں۔