ملک بھر میں سیلابی خطرات، این ڈی ایم اے نے 7 جولائی سے الرٹ جاری کر دیا

ملک بھر میں سیلابی خطرات، این ڈی ایم اے نے 7 جولائی سے الرٹ جاری کر دیا

اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 7 جولائی 2025 سے ملک کے مختلف حصوں میں ممکنہ دریائی سیلاب، فلیش فلڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خطرات کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں اور ہائیڈروولوجیکل تجزیے کی بنیاد پر جاری کردہ اس الرٹ میں متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو ہنگامی تیاریوں کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی پیش گوئی
این ڈی ایم اے کے مطابق، 7 جولائی سے درج ذیل بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے:

دریائے سندھ
دریائے جہلم
دریائے چناب
دریائے راوی
دریائے ستلج
دریائے کابل
ان کے ملحقہ ندی نالوں میں بھی طغیانی کا امکان ہے، جو آس پاس کے نشیبی علاقوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

مشرقی بلوچستان اور ڈی جی خان میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ
اتھارٹی کے مطابق، 7 جولائی سے:

مشرقی بلوچستان
ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے پہاڑی ندی نالوں میں
شدید بارشوں کے باعث فلیش فلڈنگ (اچانک سیلاب) کا امکان ہے۔
یہ علاقے ماضی میں بھی شدید بارشوں کے دوران متاثر ہوتے رہے ہیں، لہٰذا مقامی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ:شمالی اور وسطی پنجاب کے بڑے شہری مراکز، خصوصاً:

لاہور
راولپنڈی
فیصل آباد
گوجرانوالہ
ملتان
میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا خطرہ موجود ہے، جو نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ اداروں کو ہدایات
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ:

ریسکیو و ریلیف اسٹاف کو الرٹ رکھا جائے
مشینری اور آلات تیار حالت میں رکھے جائیں
عوامی آگاہی مہمات شروع کی جائیں
ہائی رسک علاقوں میں ابتدائی انخلا کے پلان تیار رکھے جائیں
ڈیموں اور بیراجوں کی مانیٹرنگ سخت کی جائے
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ:

دریاؤں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں
سفر کے دوران موسم اور مقامی ایڈوائزری کو مدنظر رکھیں
ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں
غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں
 این ڈی ایم اے، محکمہ موسمیات اور دیگر ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔