یورپی کوہ پیما خاتون نانگا پربت سر کرنے کی کوشش میں حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق

یورپی کوہ پیما خاتون نانگا پربت سر کرنے کی کوشش میں حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق

یہ افسوسناک واقعہ نانگا پربت کے خطرناک ترین پہاڑی سلسلے میں پیش آیا جہاں چیک ریپبلک سے تعلق رکھنے والی 41 سالہ غیر ملکی کوہ پیما کولاوشاوا کلارا (Kolloushova Klara) دورانِ مہم جوئی کھائی میں گر کر جاں بحق ہو گئیں۔

واقعے کی تفصیل:
حادثہ کیمپ ون اور کیمپ ٹو کے درمیان پیش آیا، جب کلارا بلند مقام سے نیچے گر گئیں۔ان کے ساتھی کوہ پیماؤں نے فوری طور پر بیس کیمپ پہنچ کر واقعے کی اطلاع متعلقہ حکام کو دی۔
ابتدائی خبریں:
شروع میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے کی اطلاعات آئیں، تاہم بعد میں تصدیق ہوئی کہ کلارا کی موت اونچائی سے گرنے کی وجہ سے ہوئی۔
ریسکیو آپریشن:
ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرچ اینڈ ریکوری آپریشن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔کلارا کی لوکیشن کو جی پی ایس ٹریس کر کے ان تک رسائی کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ٹیم کی آمد کا شیڈول:
کلارا اور ان کی ٹیم 15 جون کو شنگریلا ہوٹل (سکردو) میں مقیم تھیں۔16 جون کو وہ بونر بیس کیمپ کی طرف روانہ ہوئیں۔17 جون کو ٹیم نانگا پربت کے بیس کیمپ پہنچی۔
حکام کا ردِعمل:
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دیامر کے مطابق متاثرہ ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔واقعے کی تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کا درست تعین کیا جا سکے۔
نانگا پربت کے حوالے سے پس منظر:
نانگا پربت کو دنیا کے خطرناک ترین پہاڑوں میں شمار کیا جاتا ہے جسے "قاتل پہاڑ" (Killer Mountain) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی 8,126 میٹر ہے اور یہاں کئی عالمی کوہ پیما اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔