محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول پنجاب میں ٹیکس ریکوری کا نیا ریکارڈ

حکومت پنجاب کی جانب سے محکمہ ایکسائز کو 55 ارب  کا ہدف دیا گیا  تھا ‘محکمے نے  55 ارب 78 کروڑ روپے سے زائد کی وصولی ممکن بنائی
رواں سال کی ریکوری گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 ارب روپے زائد رہی جو کہ 29 فیصد کی مجموعی بہتری کو ظاہر کرتی ہے:سالانہ رپورٹ
 یہ کامیابی ایک فرد کی نہیں پوری ٹیم کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے‘ دیانتداری اور جدید طریقہ کار کو اپناتے ہوئے عوام کے اعتماد کو  بحال کیا: ڈی جی ایکسائز محمد عمر شیر

لاہور(سپیشل رپورٹر)محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول پنجاب نے ڈائریکٹر جنرل محمد عمر شیر کی قیادت میں مالی سال 2024-25 کے دوران اپنے اہداف سے بڑھ کر محصولات اکٹھے کر کے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے، حکومتی ٹارگٹ سے بڑھ کر ریکوری کرتے ہوئے محکمہ ایکسائز نے نہ صرف اپنے ادارے کی کارکردگی پر مہر ثبت کی ہے بلکہ صوبے کی مالیاتی خودمختاری میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر حکومت پنجاب کی جانب سے محکمہ ایکسائز کو 55 ارب روپے کا ہدف سونپا گیا تھا تاہم محکمے نے انتھک محنت، مربوط حکمت عملی اور موثر ٹیم ورک کے نتیجے میں 55 ارب 78 کروڑ روپے سے زائد کی وصولی ممکن بنائی۔  سالانہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کی ریکوری گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 ارب روپے زائد رہی جو کہ 29 فیصد کی مجموعی بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔ محکمے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ محصولات کی مد موٹر وہیکل ٹیکس سے اکٹھی ہوئیں جہاں 29 ارب 41 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ اس کے بعد پراپرٹی ٹیکس میں 20 ارب 50 کروڑ روپے، ایکسائز ڈیوٹی میں 3 ارب 65 کروڑ روپے اور پروفیشنل ٹیکس میں 1 ارب 41 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی۔ ٹیکس آن ایبٹنگ ہائی ویز، لگڑری ہاؤسز اور کاٹن فیس کی مد میں بھی قابل ذکر ریونیو حاصل ہوا۔ مجموعی طور پر 101 فیصد ہدف کا حصول، وہ بھی انتہائی شفاف انداز میں محکمہ ایکسائز کی صلاحیت اور عزم کا مظہر ہے۔ ڈی جی ایکسائز محمد عمر شیر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ کامیابی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری ٹیم کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نہ صرف اہداف پورے کیے بلکہ شفافیت، دیانتداری اور جدید طریقہ کار کو اپناتے ہوئے عوام کے اعتماد کو بھی بحال کیا، ہم نے پرفارمنس مانیٹرنگ سسٹم بہتر بنایا، ڈیجیٹلائزیشن پر بھرپور توجہ دی اور فیلڈ سٹاف کی کارکردگی کو براہِ راست مانیٹر کیا۔ ڈی جی محمد عمر شیر نے کہا کہ محکمہ کی اس شاندار کارکردگی پر اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے افسران اور فیلڈ سٹاف کو تعریفی اسناد دی جائیں گی۔ جس کے لیے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں کو نہ صرف سرٹیفکیٹس دیے جائیں گے بلکہ انعامات سے بھی نوازا جائے گا تاکہ اْن کے حوصلے مزید بلند ہوں اور آئندہ سال کے لیے نئے اہداف کے حصول میں بھی وہی جذبہ کارفرما رہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈویڑن وائز کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور گجرات جیسے بڑے ریجنز نے غیر معمولی نتائج دیے۔ لاہور-C ریجن نے سب سے زیادہ یعنی 16 ارب 25 کروڑ روپے کی وصولی کی جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ راولپنڈی ڈویڑن نے 6 ارب 31 کروڑ، فیصل آباد نے 5 ارب 19 کروڑ اور گوجرانوالہ نے 3 ارب 66 کروڑ روپے کی وصولی کی۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ نہ صرف بڑے شہروں بلکہ نسبتاً چھوٹے ریجنز میں بھی کارکردگی کا معیار بلند ہوا ہے۔