ایک سیاسی جماعت پر گولیاں برسائی گئیں ملک کا وزیراعظم کہہ رہا ہے کچھ نہیں ہوا‘یہ بات کرنا مناسب نہیں‘اس طرح کی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے‘ ہم نے اپنے لاپتہ افراد کی لسٹ حکومت کو دی ہے تاکہ انہیں بازیاب کرایا جاسکے
خدشہ ہے لاپتہ افراد کو شہید نہ کردیا جائے‘ پاکستان ترجیح ہے اس کے لئے مل کر بات کریں گے‘افغانستان سے جرگہ کے ذریعے مذاکرا ت کا اختیار دیا جائے تو مثبت کردار ادا کریں گے:وزیراعلی کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ایک سیاسی جماعت پر گولیاں برسائی گئیں ملک کا وزیراعظم کہہ رہا ہے کچھ نہیں ہوا۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اپیکس کمیٹی کا اجلاس اہم تھا۔ 26 نومبر کی بات خود وزیراعظم نے کی۔ میں نے کہا 13 شہید ہوئے اور 58 زخمی ہیں جبکہ 45 لاپتپ ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے اس طرح کی بات کرنا گولی نہیں چلی نامناسب ہے۔ اس طرح کی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہم نے اپنے لاپتہ افراد کی لسٹ حکومت کو دی ہے تاکہ انہیں بازیاب کرایا جاسکے۔ حکومت کے پے درپے بیانات ہیں ہم بغیر اجازت ریڈ زون میں گئے۔ ہم سیاسی جماعت ہیں ہمارے کارکن سیاسی ہیں مگر ان کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا وہ قابل مذمت ہے۔ ہم محب وطن ہیں ہمیں انصاف چاہیے۔ اگر کوئی تحفظات ہیں تو بات کرنا چاہیے۔ ہماری ترجیح مذاکرات ہیں اور ہم ملک میں امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔ ہم سب مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں۔ہم دہشت گردوں کے خلاف ا?خری حد تک جائیں گے اور امن قائم کریں گے۔ افغانستان سے اب تک حکومتی سطح پر بات ہوئی ہے بحیثیت جرگہ بات نہیں ہوئی۔ مذاکرات تو حکومت ہی کرتی ہے مگر ہمیں جرگہ کی حیثیت سے مذاکرات کا اختیار دیا جائے تو ہم اپنے قبائل کے ساتھ ملک کر مذاکرات میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بتایا گیا ہے افغانستان سے بات چیت کے دوران بھی وہاں سے سرحد پار کارروائیاں جاری ہیں۔پاکستان ترجیح ہے اس کے لئے مل کر بات کریں گے۔ کرم سے متعلق مفصل معاہدہ کیا گیا ہے۔ جب سے عمران خان کی حکومت گئی ہے دہشتگردی کی کارروائیاں بڑھی ہیں۔ غلط پالیسیاں ایسی چیزوں کو جنم دیتی ہیں۔ سرحدی علاقے کی ذمہ داری فوج اور وفاقی حکومت کی ہے۔ ضم اضلاع میں آپریشن کیے گئے تاہم کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ 9 مئی پر کمیشن بنانا ہمارا مطالبہ ہے۔