اسلام آباد: پاکستان میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری کے لیے آئینی مشاورت کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو ملاقات کی تحریری دعوت دی ہے تاکہ اس اہم آئینی عمل کو مشاورت سے مکمل کیا جا سکے۔
وزیراعظم کا خط:
ذرائع کے مطابق، وزیراعظم نے عمر ایوب کو بھیجے گئے خط میں لکھا:"چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی مدت 26 جنوری کو ختم ہو چکی ہے، تاہم وہ آئین کے آرٹیکل 215 کے تحت تاحال کام کر رہے ہیں۔"مزید کہا گیا کہ:"آئین کے آرٹیکل 218(2)(b) کے تحت، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری کے لیے مشترکہ مشاورت کے بعد نام تجویز کیے جاتے ہیں، جو بعدازاں پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں۔"وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو ملاقات کے لیے مناسب وقت اور مقام کے تعین کی دعوت دی ہے تاکہ اس آئینی تقاضے کو خوش اسلوبی سے پورا کیا جا سکے۔
آئینی پس منظر:
آئین کے آرٹیکل 213 اور 218 کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کا تقرر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے کیا جاتا ہے۔دونوں رہنما تین تین نام تجویز کرتے ہیں، جن میں سے ایک پر پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد تقرری عمل میں لائی جاتی ہے۔موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی مدت مکمل ہو چکی ہے، تاہم وہ تاحال آئینی طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
سیاسی اہمیت:
یہ مشاورت ایسے وقت ہو رہی ہے جب:حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات اور انتخابی نتائج پر اپوزیشن کی شدید تنقید جاری ہے۔الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔نئی تقرریاں 2028 کے عام انتخابات کے لیے اہم کردار ادا کریں گی، اس لیے ان تقرریوں پر وسیع تر اتفاق رائے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ممکنہ ردِعمل:
عمر ایوب کی طرف سے ملاقات کی دعوت پر ردعمل اور آئندہ مشاورتی عمل کا لائحہ عمل آئندہ چند دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔اگر دونوں رہنما متفق نہ ہوئے تو تقرری کا عمل پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے مکمل ہوگا۔