پیکا قانون یکطرفہ بنا ، صحافی برادری سے مشاورت کی جاتی تو بہتر نتائج مل سکتے تھے،صدر نے یقین دلایا تھا محسن نقوی سے مشاورت کریں گے، لگتا ہے دبائو میں دستخط کردیئے
حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں ‘ یہ اسٹیبلیشمنٹ کے اشاروں پر چلتی ہے‘حالات کے بدلنے سے قوانین بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں :سربراہ جے یو آئی کی میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد (آئی این پی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے پیکا قانون یک طرفہ بنا ، صحافی برادری سے مشاورت کی جاتی تو بہتر نتائج مل سکتے تھے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اچانک پارلیمنٹ ہائوس پہنچ گئے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست اور صحافت ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں قوانین بنتے ہیں معروضی حالات کو سامنے رکھ کر بناتا ہے، حالات کے بدلنے سے قوانین بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں مقتدر قوتوں کے آئین اور قانون موم کی ناک ہے جس طرف موڑ دیں، پیکا کے حوالے قانون یک طرفہ بنا ہے صحافی برادری سے مشاورت کی جاتی تو بہتر نتائج مل سکتے تھے ۔صدر مملکت نے یقین دلایا کہ محسن نقوی سے مشاورت کریں گے لگتا ہے ایسا دبائوآیا ہے کہ صدر نے جلد ہی دستخط کردیئے چھبیس ویں آئینی ترمیم کا مسودہ ہمارے دبا پر دیا گیا ،اگر چھبیس ویں آئینی ترمیم حکومتی مسودہ تسلیم کرتے تو ملک میں مارشل کی کیفیت ہوتی ۔چھبیس ویں آئینی ترمیم میں ہمارے نکات تسلیم کئے ۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے پی اور بلوچستان میں کچھ علاقوں میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے۔مقتدر حلقے امن و امان قائم کرانے میں مکمل ناکام نظر آرہے ہیں .جب ہم سنتے ہمارے جوان شہید ہورہے ہمیں افسوس ہوتا ہے ہمارے اندر اعتماد تھا ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں اعتماد ریزہ ریزہ ہو گیا ہیخدا نہ کرے اگر میرے اوپر حملہ ہوتا ہے تو مجھے دی گئی سکیورٹی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی آج اگر بلوچستان کا علاقہ علیحدگی کا اعلان کردے تو لوگ اس کی حمایت کریں گے کشمیر کو تو ہم نے اونے پونے دے دیا ہے، ہم نے کشمیر کے لیے آج تک کچھ نہیں کیا ہم نے بین الاقوامی سطح کے دبائو میں آکر کشمیر میں موقف تبدیل کیا کشمیری قوم کی ہمت کو سلام مودی کے خوابوں کو بکھیر دیا ہے، اب ہم افغانستان کے ساتھ معاملات خراب کرنے چلے ہیں