پاکستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کی قیادت نے ٹیم کے اندر مثبت اثر ڈالا ہے، جس سے ان کے ورلڈکپ تک برقرار رہنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ اور پلیئرز کا ایک ساتھ کھیلنا حکام اور تجزیہ کاروں کو بہت متاثر کر رہا ہے، جو ماضی میں کم نظر آتی تھی۔دوسری جانب، دورہ سری لنکا کے لیے ٹیم کے اسکواڈ میں شاداب خان کی واپسی کی توقع ہے، وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھرپور پریکٹس کر رہے ہیں اور بگ بیش لیگ میں اپنی فٹنس کا امتحان دیں گے۔ پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے لیے شیڈول فروری اور مارچ میں بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں کھیلا جائے گا۔اس وقت ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا کے پاس ہے، اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ان کی قیادت میں ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ پی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ سلمان علی آغا ہی ٹیم کے کپتان رہیں گے، کیونکہ ان کی قیادت میں ٹیم کا رویہ اور اسپرٹ بہتر ہوئی ہے۔ ایک اور عہدیدار نے کہا کہ سلمان نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ٹیم کو ایک نیا جوش دیا ہے، اور ٹیم کی فتح کے لیے لڑنے کا جذبہ واپس آیا ہے۔
یاد رہے کہ 2025 کے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان سب سے زیادہ 21 فتوحات حاصل کرنے والی ٹیم ہے۔ سلمان نے اپنے کیریئر کے 40 میں سے 38 ٹی ٹوئنٹی میچز بطور کپتان کھیلے ہیں، اور 24.85 کی اوسط سے 671 رنز بنائے ہیں، جس سے وہ ملک کے تیسرے کامیاب ترین کپتان بن چکے ہیں۔ بابر اعظم اور سرفراز احمد ان سے آگے ہیں۔ حالیہ سیریز میں، سلمان نے سری لنکا کے خلاف 63 رن ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی، جو ان کی بیٹنگ کارکردگی میں بہتری کی نشان دہی کرتی ہے۔دوسری طرف، شاداب خان کی واپسی کی بھی توقع ہے، جو حال ہی میں کندھے کی سرجری کے بعد فٹ ہو رہے ہیں۔ وہ لندن میں سرجری کے بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں مشقیں کر رہے ہیں، اور بگ بیش لیگ کے دوران اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ ان کی فٹنس سے مطمئن ہیں۔ آسٹریلیا میں ہونے والا ایونٹ 14 دسمبر سے شروع ہوگا، اور منتخب پاکستانی کرکٹرز کی آئندہ ہفتے روانگی ہوگی۔ سری لنکا سے سیریز میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو واپس بلوایا جائے گا۔