پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اہم اعلان کیا ہے کہ پنجاب میں ڈرائیونگ کی عمر 16 سال مقرر کر دی گئی ہے اور مستقبل میں ای چالان سسٹم کو مزید سخت بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک ڈسپلن کو بہتر بنانے کے لیے نئے روڈ سیفٹی میکنزم فعال کیے جا رہے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رہے گی۔ مریم اورنگزیب کے مطابق، جب تک لوگ خود ذمہ داری نہیں لیں گے، حادثات کم نہیں ہوں گے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب میں اب ہر خلاف ورزی کا ڈیٹا رئیل ٹائم میں مانیٹر ہو رہا ہے، اور مستقبل میں الیکٹرانک چالان سسٹم کو اور سخت بنایا جائے گا۔ نابالغ بچوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا خودکشی کے مترادف ہے، اور اگر والدین بچوں کو گاڑی دیں گے تو قانون سخت کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جان قیمتی ہے اور کسی کو اپنی یا دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔مزید برآں، مریم اورنگزیب نے بتایا کہ پنجاب میں منشیات کے خلاف ایک تاریخ کا سخت ترین آپریشن جاری ہے۔ یہ آپریشن صرف حکومتی کارروائی نہیں بلکہ ایک سماجی مشن ہے۔
اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز میں سپاٹ چیکس میں اضافہ کیا گیا ہے اور منشیات مافیا کے خلاف جنگ آخری حد تک جاری رہے گی۔ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ منشیات کے نیٹ ورکس کی میپنگ مکمل ہو چکی ہے اور صوبے بھر میں ڈرونز کے ذریعے خفیہ سپلائی پوائنٹس کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ بہت سے فعال گروہ پہلے ہی بے نقاب ہو چکے ہیں، اور 111 لانگ رینج نیٹ ورکس کی گرفتاری حکومت کے مضبوط عزم کی علامت ہے۔ وزیراعلیٰ نوجوانوں کو نشے سے بچانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ لے رہے ہیں۔