پنجاب میں ایک روز میں ٹریفک چالانز کی تاریخ کا بڑا ریکارڈ ، 40636 ٹریفک چالانز ، 15428 گاڑیاں تھانوں میں بند

ٹرانسپورٹرز کی صوبہ بھر میں پہیہ جام ہڑتال
8 دسمبر سے پنجاب میں کوئی گاڑی روڈ پر نہیں آ ئے گی،حکومت کو 4 روز کا وقت ، مطالبات نہ مانے گئے تو سڑکوں پر نکلیں گے، ٹریفک آرڈینینس مسلط کیا گیا، ٹرانسپورٹرز سے مشاورت بھی نہیں کی گئی
،ڈرائیورز کی تذلیل ، گاڑیاں بند، بھاری جرمانے ، 80 فیصد کام رک چکا ۔ ہمارا سامان ہمارے گوداموں میں پڑا ہے ، کوئی ڈرائیور لے کر جانے کو تیار نہیں،غیر ضروری ٹول پلازے ختم کیے جائیں
    لاہور(کرائم رپورٹر)ٹرانسپورٹرز نے 8 دسمبر سے صوبہ بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ نبیل طارق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لئے حکومت کو 4 روز کا وقت دے رہے ہیں ، مطالبات نہ مانے گئے تو سڑکوں پر نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک آرڈینینس 2025 ہم پر مسلط کیا گیا،کسی ٹرانسپورٹرز سے بھی مشاورت نہیں کی گئی،ڈرائیورز کی تذلیل کی جا رہی ہے، گاڑیاں بند کی جا رہی ہیں، اتنے بھاری جرمانے ہیں کہ ہمارا 80 فیصد کام رک چکا ہے۔ ہمارا سامان ہمارے گوداموں میں پڑا ہے ، کوئی ڈرائیور لے کر جانے کو تیار نہیں،ٹریفک آرڈیننس  کو فوری واپس لیا جائے،تمام ٹرانسپورٹرز خوف کے عالم میں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں ، ہم کیسے اس نظام کے ساتھ چلیں،ٹریفک پولیس پیٹرولنگ اور تھانہ پولیس کی جانب سے چالان ٹارگٹ کو ختم کیا جائے،لاہور میں پیرا فورس اور کارپوریشن کی جانب سے ناجائز جرمانوں کو ختم کیا جائے۔ سیکرٹری آر ٹی اے اور محکمہ ماحولیات کی جانب سے ناجائز جرمانے بند کیے جائیں،پاسنگ کی سہولت تمام سرکاری اڈوں پر مہیا کی جائے،لاہور میں نئے ٹرک سٹینڈز کے لیے جگہ مہیا کی جائے،منی مزدا کے لیے پورے پنجاب کیں کوئی سٹینڈ نہیں ان کے لیے بھی جگہ دی جائے،ہمارے منسوخ شدہ 7500 مزدوں کو بحال کیا کائے۔ نبیل طارق نے مزید کہا کہ روٹ پرمٹ جاری کرنے کا ایک خاص ٹائم فرید مقرر کیا جائے،روٹ پرمٹ کی مدت تین سال کی جائے،موٹر وے پر بھی ٹارگٹ چالان بند کیے جائے،ٹول میں اضافہ واپس لیا جائے،موٹر وے پر بڑھتی ہوئی ڈکیتوں کو روکا جائے،ایکسل لوڈ کے نظام کو پورے ملک میں یکساں کیا جائے،کچے کے علاقے کے قریب ڈکیتیوں کو روکا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہائی ویز اور جی ٹی روڈ پر غیر ضروری ٹول پلازے ختم کیے جائیں،کسٹم کی ناجائز چیکنگ بند کی جائے۔پنجاب میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر نئے جرمانوں کے اطلاق کے پہلے ہی دن تاریخ کا سب سے بڑا مالی ریکارڈ قائم ہوگیا۔ صوبے بھر میں ایک ہی روز میں مجموعی طور پر 13 کروڑ 19 لاکھ روپے کے چالان کیے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق 40636 ٹریفک چالانز کیے گئے جبکہ 15428 گاڑیاں تھانوں میں بند کی گئیں۔ اسی طرح 4388 گاڑیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔موٹر وہیکل آرڈیننس میں حالیہ ترامیم کے بعد اب تک 4 لاکھ 4713 چالانز کیے جا چکے ہیں جن سے 49 کروڑ 52 لاکھ روپے کے جرمانے وصول ہوئے، جبکہ 63 ہزار گاڑیاں تھانوں میں بند کی گئیں۔ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ جرمانوں میں اضافے کے تناظر میں سسٹم کو سافٹ ویئر اپڈیٹ کر دیا گیا ہیجبکہ کم عمر ڈرائیورز کے خلاف مقدمات کے اندراج کو صوبے بھر میں روک دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق ان اعداد و شمار میں سیف سٹیز اتھارٹی کے ای چالانز شامل نہیں ہیں۔