بچہ گٹر میں کیسے گرا، مکمل حقائق سامنے آ گئے

بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد ملی، اس سانحہ ہر کوئی گہرے صدمہ سے دوچار
لاہور(نیٹ نیوز) گٹر میں گرکر بچے کی وفات کے سانحہ کو لے کر کراچی کے ادارے ایک دوسرے کی کوتاہیوں کی نشان دہی کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو سانھے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ا?ج کراچی میونسپل کارپوریشن نے نیپا چورنگی کے گٹر کا مین ہول نہ ہونے کا ذمہ دار کراچی کی بس ریپڈ ٹرانزیشن سسٹم کی انتظامیہ بی ا?ر ٹی کو ٹھہرایا تھا، بی آر ٹی نے کے ایم سی کے الزامات مسترد کر دیئے۔ یہ بھی پتہ چل چکا ہے کہ گٹر کا ڈھکن کسی گاڑی کے گزرنے سے ٹوٹا تھا۔ ایک فوٹیج سے یہ تصدیق ہو گئی کہ سانحہ ہونے کے وقت بچہ والدہ کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑوا کر سامنے کھڑے والد کے پاس جا رہا تھا۔ چند فٹ کے فاصلہ میں ہی سانحہ ہو گیا۔ اس واقعہ کی ویڈیوز بھی سامنے  aA گئی ہیں اور جس گٹر کا ڈھکن غائب تھا، اس ڈھکن کے ہٹنے کی وجہ بھی ویڈیو ایویڈنس کے ساتھ سامنے ا? گئی ہے۔ ایک سی سی ٹی وی ویڈیو میں سانحہ میں جان سے جانے والے بچے کو اپنی والدہ کے ساتھ شاپنگ سینٹر سے نکلتے اور پھر والد کی طرف دوڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک طرف بچے کی والدہ تھی، دوسری طرف بچے کا والد تھا، اور اس دوران بچہ کھلے مین ہول میں جاگرا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میونسپلٹی کے کئی ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کے افسروں، انجینئیروں کے ساتھ ایک اسسٹنٹ کمشنر گلشنِ اقبال کو بھی معطل کر دیا۔ نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد مل گئی تھی۔ اس سانحہ نے شہر کو گہرے صدمہ سے دوچار کر دیا تھا۔