اس وقت افغانستان، چاڈ، کانگو، اریٹیریا، ایران، لیبیا، سوڈان، یمن، میانمار، ہیٹی اور دیگر ممالک پر مکمل سفری پابندی نافذ ہے
سفری پابندی کی فہرست میں شامل ممالک کو ویزا،امیگریشن فیصلوں میں منفی عنصر کے طور پر دیکھا جائے: یو ایس سی آئی ایس
واشنگٹن (آئی این پی )واشنگٹن میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن پالیسی مزید سخت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے 30 ممالک پر سفری پابندیاں لگانے پر غور شروع کردیا ۔امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے سفر پر پابندی کے فیصلے کو توسیع دیتے ہوئے 19 ممالک سے بڑھا کر 30 ممالک کو فہرست میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ٹرمپ رواں سال دوبارہ یہ پالیسی نافذ کر چکے ہیں۔امریکی وزیر برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نوم نے بتایا کہ انہوں نے صدر سے ملاقات میں پابندی کا دائرہ بڑھانے کی سفارش کی ہے۔ ان کے مطابق اس پابندی سے متاثرہ ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس وقت افغانستان، چاڈ، کانگو، اریٹیریا، ایران، لیبیا، سوڈان، یمن، میانمار، ہیٹی اور دیگر ممالک پر مکمل سفری پابندی نافذ ہے جبکہ برونڈی، کیوبا، لاس، ٹوگو، ترکمانستان، وینزویلا سمیت متعدد ممالک پر جزوی پابندیاں ہیں۔امریکی یو ایس سی آئی ایس نے ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ سفری پابندی کی فہرست میں شامل ممالک کو ویزا اور امیگریشن کے فیصلوں میں منفی عنصر کے طور پر دیکھا جائے۔ اس کے علاوہ افغان پاسپورٹ پر ویزا کا اجرا بھی تاحکم ثانی روک دیا گیا ہے۔