گیس رائلٹی سمیت خیبرپختونحوا کے وسائل کو روکا گیا (اپوزیشن اتحاد)مسلسل فنڈز دیئے طلال چودھری

 پاک فوج ہماری ہے،ہم چاہتے ہیں آئین میں جس کا جو کردار ہے وہ وہاں تک رہے: اسد قیصر‘کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا:محمد زبیر
پی ٹی آئی  دور میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا،  معیشت کو نقصان پہنچا‘موجودہ حکومت کی معاشی و سفارتی پالیسیوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا:وزیر مملکت
اسلام آباد(آئی این پی ‘آئی این پی)پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے  پاک فوج ہماری فوج ہے،ہم چاہتے ہیں آئین میں جس کا جو کردار ہے وہ وہاں تک رہے ، خیبر پختونخوا کا این ایف سی میں جو شیئر ہے وہ دیا جائے، سرتاج عزیز کمیٹی نے جو 1000 ارب روپے دینے کا کہا وہ دئیے جائیں، این ایف سی میں تمام صوبوں نے فاٹا انضمام پر حصہ دینے کا کہا، خیبر پختونخوا میں جب فاٹا ضم ہوا تو خیبر پختونخوا کا شئیر 19 فیصد ہوگیا، گیس کی رائلٹی سمیت صوبے کے وسائل کو روکا گیا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے  اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کے رہنمائو ں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب  کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ چار ماہ کی رپورٹ آئی ہے کہ ایکسپورٹ نیچے گر گئی ہے، تجارتی خسارہ 37 فیصد بڑھ گیا ہے، ہم کہتے ہی تھے کہ کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا، یہاں کا ٹیکس اسٹرکچر صحیح نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل سرفراز نے کہا کہ اتنے ٹیکس میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ گورننس کا سسٹم اتنا خراب ہے کہ کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔دریں اثناء وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اپوزیشن اتحاد کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن ایک بار پھر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالی حصے میں نمایاں اضافہ ہوا اور وفاقی محاصل میں صوبوں کا شیئر ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔طلال چوہدری نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کی مالی ضروریات پوری کرنا وفاق کی ذمہ داری رہی ہے جسے حکومت نے باقاعدگی سے ادا کیا۔ ان کے مطابق فاٹا انضمام کے بعد خصوصی گرانٹس، ترقیاتی فنڈز اور سیکورٹی اخراجات کے لیے بھی وفاق نے مسلسل رقوم جاری کیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے اپنا ترقیاتی بجٹ خود استعمال نہیں کیا، اس کے باوجود مرکز پر ذمہ داری ڈالنے کی روش اپنائی جا رہی ہے۔