قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمدان الثانی اپنے سرکاری دورے پر برطانیہ پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے برطانوی شاہ چارلس سوم سے ملاقات کی۔
شاہ چارلس نے امیرِ قطر کی عالمی سطح پر ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ قطر کی مسلسل محنت اور سفارتی کوششوں کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی یہ تعریف خاص طور پر قطر کی کردار پر مرکوز تھی جو مختلف بین الاقوامی تنازعات میں امن کی کوششوں میں مصروف ہے۔اس ملاقات کے دوران، امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمدان الثانی نے بھی شاہ چارلس سوم کی بین المذاہب مکالمے، امن کے فروغ اور ماحول کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ برطانیہ اور قطر نہ صرف دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بھی مضبوط شراکت داری ہے۔
امیرِ قطر نے لندن میں ویسٹ منسٹر ایبے کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے خطاب کیا۔ اس دوران، انہوں نے غزہ کی صورتِ حال پر بات کی اور کہا کہ غزہ کی پٹی مکمل تباہی کا شکار ہے۔انہوں نے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی اور کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام میں ہے۔ امیرِ قطر نے مزید کہا کہ قطر نے غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے نیک نیتی سے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔امیرِ قطر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یوکرین اور غزہ کے تنازعات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور عالمی برادری کو ان مسائل کے حل کے لیے مزید مؤثر اقدامات اٹھانے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے دلوں کو نرم کرنا چاہیے اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی فریاد کو سننا چاہیے تاکہ ان کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔اس دورے کے دوران، دونوں رہنماؤں نے اپنے ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔