پنجاب کی سابق حکومتیں مہنگی گندم خرید کر سستی دیتی رہیں:آڈٹ رپورٹ

لاہور(دانش منیر)حکومت پنجاب کے گندم نہ خریدنے کی مزید وجوہات آڈٹ رپورٹ میں لکھ دی گئیں۔رپورٹ کے مطابق ناقص حکمت عملی کے باعث گزشتہ 21 برسوں میں صوبائی خزانے کو کھربوں روپے کے نقصان ہوا۔2000 سے لیکر 2021 تک پنجاب کے خزانے کو3 کھرب 68 ارب کا نقصان پہنچایا۔سرکاری دستاویزات میں مہنگی گندم خرید کر سستے فروخت کی گئی۔گندم محفوظ رکھنے کے لئے ہونے والے اخراجات بھی حکومت کو گندم مہنگی پڑنے کا باعث بنے۔سابقہ حکومتیں گندم مہنگے داموں خرید کر سستی فروخت کرتی رہیں۔سابقہ صوبائی حکومتیں اور اداروں کی نا اہلی کی وجہ سے قرضوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا۔محکمہ فوڈ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ  قرضوں کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی دینے میں ناکام رہا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق اشیاء￿  خورونوش کی خریداری کے لیے قرضوں میں صد سے زائد اضافہ ہوا۔صرف مالی سال 2022.-23 میں صوبائی قرضوں میں 114 فیصد اضافہ ہوا۔قرضہ کی باقاعدگی سے ادا نہ کرنے پراس مرتبہ گندم خریدنے کی بجائے، قرضہ اتارنے کا فیصلہ کیاگیا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23 میں نگران حکومت نے 395 ارب روپے کا قرض ادا کیا۔متعلقہ اداروں نے آڈٹ رپورٹ 2022-23 تیار ہونے تک مستقبل کے لیے خاطر خواہ حکمت عملی نہ دی۔مستقبل کے خطرات کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے 2010میں بھی 3سو ارب کا قرض اتارنے کی تجویز دی عمل نہ ہوسکا۔