یورپ کے مختلف ممالک میں رواں ماہ ایک نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، جہاں تقریباً تین دہائیوں بعد بڑی تعداد میں لوگ سورج گرہن کا مشاہدہ کر سکیں گے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق 12 اگست کو چاند زمین اور سورج کے درمیان سے گزرے گا، جس کے باعث سورج کی روشنی عارضی طور پر کم ہو جائے گی اور کئی علاقوں میں دن کے وقت اندھیرا چھا جائے گا۔ماہرین فلکیات کے مطابق اس نایاب واقعے کو یورپ کے کروڑوں افراد دیکھ سکیں گے، جبکہ برطانیہ میں مکمل سورج گرہن کے بجائے جزوی سورج گرہن کا نظارہ ہوگا۔رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور آئرلینڈ کے کئی علاقوں میں سورج تقریباً 90 فیصد تک چھپ جائے گا، جس کے باعث دن کے وقت روشنی میں نمایاں کمی محسوس کی جائے گی۔
برطانیہ میں کہاں زیادہ واضح نظر آئے گا؟
رائل آبزرویٹری گرین وچ کے مطابق لندن میں سورج کی زیادہ سے زیادہ کوریج تقریباً 90 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ کارن وال میں یہ شرح تقریباً 95 فیصد اور آئرلینڈ کے جنوب مغربی علاقوں میں تقریباً 98 فیصد تک جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق برطانیہ میں اس سے قبل 1999 میں مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کیا گیا تھا، جب کارن وال اور ڈیون کے کئی علاقوں سے یہ تاریخی منظر دیکھا گیا تھا۔
موسمی حالات اہم کردار ادا کریں گے
ماہر موسمیات ڈاکٹر کرسٹوفر انگلینڈ کے مطابق سورج گرہن کے مشاہدے کے لیے موسم ایک اہم عنصر ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے جنوب مشرقی علاقوں میں آسمان صاف رہنے کے امکانات زیادہ ہیں، جبکہ شمال مغربی علاقوں میں بادلوں کی موجودگی کا امکان ہے، جو نظارے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ماہرین کی احتیاطی ہدایت
فلکیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہ راست آنکھوں سے دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ خصوصی حفاظتی چشموں یا محفوظ آلات کے ذریعے ہی اس فلکیاتی منظر کا مشاہدہ کریں۔ماہرین کے مطابق سورج گرہن نہ صرف ایک دلچسپ قدرتی مظہر ہے بلکہ سائنسدانوں کے لیے بھی تحقیق کا اہم موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے سورج، زمین اور چاند کے باہمی تعلقات کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔