حوثی حملوں کے باوجود سعودی آرامکو کی تیل پیداوار برقرار، آپریشنز متاثر نہیں ہوئے

حوثی حملوں کے باوجود سعودی آرامکو کی تیل پیداوار برقرار، آپریشنز متاثر نہیں ہوئے

ریاض: سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ایچ ناصر نے کہا ہے کہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے کیے گئے حملوں کے باوجود کمپنی کی تیل پیداوار اور آپریشنل صلاحیتوں پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امین ایچ ناصر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جولائی کے دوران حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں سمیت آرامکو کی مختلف تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم ان حملوں سے کمپنی کی مجموعی پیداواری صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ سعودی آرامکو نے اپنی تنصیبات کے تحفظ اور توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے جدید حفاظتی اقدامات اور مؤثر آپریشنل حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے، جس کے باعث کمپنی کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔آرامکو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود کمپنی نے مضبوط مالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں کمپنی کے منافع میں تقریباً 44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔امین ایچ ناصر کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی آرامکو نہ صرف اپنی پیداوار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی بلکہ عالمی توانائی کی مارکیٹ میں اپنی مضبوط پوزیشن بھی قائم رکھے ہوئے ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران تیل کی تنصیبات کا تحفظ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آرامکو کی مسلسل پیداواری صلاحیت عالمی مارکیٹ کے استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطے میں سکیورٹی خدشات بدستور موجود ہیں، تاہم سعودی آرامکو کی موجودہ کارکردگی سعودی عرب کے توانائی شعبے کی مضبوطی اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔