برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کرادی ایرانی وزارت خارجہ

امریکہ کیساتھ  مذاکرات نہیں ہو رہے‘عمان کے ساتھ نئے بحری راستے پر بات چیت کا مطلب آبنائے ہرمز کو کھولنا یا بند کرنا نہیں ہے
 ایران دشمن کی ہر دھمکی کو سنجیدگی سے  لیتا ہے:وزیردفاع‘ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع
تہران‘واشنگٹن (آئی این پی‘آن لائن )ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے حالیہ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے  آبنائے ہرمز سے ایک عارضی محفوظ راستے کے قیام کے حوالے سے عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بات  ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے  پریس بریفنگ میں  کہی ۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا  عمان کے ساتھ نئے بحری راستے سے متعلق ت چیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھولا یا بند کیا جا رہا ہے ،امریکا نے ایم اویوکے تحت بحری آمدورفت بحالی کی اجازت نہیں دی جبکہ   برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین نے جنگ میں شامل نہ ہونیکی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع سید مجید ابن الرضا نے کہا ہے  ایران دشمن کی ہر دھمکی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنی عسکری تیاری و دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بناتا ہے‘ دشمن کے حالیہ بیانات نفسیاتی اور ادراکی جنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں، تاہم ہماری نظر میں ہر دھمکی حقیقی ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایسے بڑے فوجی حملے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے جن کی شدت دوسری جنگِ عظیم کے بعد کم ہی دیکھی گئی ہو۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج ہر ممکن کارروائی کیلئے مکمل طور پر تیار ہے