یوکرین کا سوچی میں روسی آئل ڈپو پر ڈرون حملہ، خوفناک آگ نے تباہی مچا دی

یوکرین کا سوچی میں روسی آئل ڈپو پر ڈرون حملہ، خوفناک آگ نے تباہی مچا دی

ماسکو/کیف: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے، یوکرین کے ڈرون حملے نے روس کے بحیرۂ اسود کے شہر سوچی کے قریب ایک بڑے آئل ڈپو کو نشانہ بنایا، جس سے شدید آگ بھڑک اٹھی اور ایئرپورٹ پر پروازیں معطل کر دی گئیں۔

سوچی پر ڈرون حملہ اور آگ
روسی حکام کے مطابق، کراسنوڈار ریجن کے گورنر وینیامین کوندراتیو نے تصدیق کی کہ ڈرون کا ملبہ ایندھن کے ٹینک سے ٹکرا گیا، جس کے بعد 127 فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہو گئے۔ حملے کے باعث سوچی ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔

میکولائیف میں روسی میزائل حملہ
یوکرین کے جنوبی شہر میکولائیف میں روسی میزائل حملے نے رہائشی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا، جس میں 7 شہری زخمی ہوئے، جن میں سے 3 کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈرونز اور میزائلز کی بھرمار
روسی وزارت دفاع کے مطابق، سوچی ریفائنری پر حملہ یوکرین کے بڑے ڈرون آپریشن کا حصہ تھا، جس میں ریازان، پینزا اور وورونژ میں بھی کئی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ وورونژ کے گورنر کے مطابق، ایک حملے میں 4 افراد زخمی ہوئے۔روسی حکام نے بتایا کہ 93 یوکرینی ڈرونز کو روک لیا گیا، جبکہ یوکرینی فضائیہ کے مطابق، روس نے 83 ڈرون اور 7 میزائل فائر کیے، جن میں سے 61 تباہ کر دیے گئے، مگر 16 ڈرون اور 6 میزائل ہدف تک پہنچ گئے۔

جمعرات کا شدید حملہ اور 31 ہلاکتیں
یہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب گزشتہ جمعرات کو روسی حملے میں کیف میں 31 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق، روس نے اس دن 300 ڈرونز اور 8 کروز میزائل فائر کیے، جو 2022 کے بعد سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا۔

زیلنسکی اور ٹرمپ کے بیانات
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے روس پر مزید سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ماسکو پر نئی پابندیوں کا عندیہ دیا اور کہا:"پیوٹن کے پاس جنگ روکنے کے لیے صرف  10 سے 12 دن کا الٹی میٹم ہے، جس کی آخری تاریخ 8 اگست ہے، ورنہ روسی برآمدات پر بھاری محصولات لگیں گے۔"