وزارتِ توانائی نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے چاروں صوبوں کے ساتھ مشاورت کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ مارکیٹس، تجارتی مراکز اور کمرشل زونز کے اوقات کار میں تبدیلی کے ذریعے بجلی کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔
صوبائی حکومتیں چیمبرز، تجارتی تنظیموں اور ڈسکوز سے متعلقہ ڈیٹا جمع کر رہی ہیں تاکہ فیصلے کا عملی پہلو مضبوط ہو۔وزارت نے مارکیٹس اور دکانوں کے لیے صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رہنے کا ایک معقول وقت تجویز کیا ہے، جسے 1 سے 2 ماہ کے لیے لاگو کیا جا سکتا ہے۔آئندہ ہفتے وزارت حتمی فیصلہ کرے گی، جس میں لوڈشیڈنگ سے بچاؤ اور پیٹرول کی بچت کے اقدامات بھی شامل ہوں گے۔اس اقدام کا مقصد گزشتہ ماہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے 14 نکاتی منصوبے کے تحت توانائی کی بچت، کفایت شعاری اور معیشت کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سرکاری اخراجات میں کمی اور اشرافیہ کے لیے مراعات محدود کرنے کے ساتھ عوامی ریلیف کو ترجیح دی گئی ہے۔یہ اقدامات اس پس منظر میں کیے جا رہے ہیں کہ پورے خطے میں ایران، مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں جاری جنگی صورتحال معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہے، جس کے پیشِ نظر ملک میں توانائی کے مؤثر استعمال کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔